ادب المسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام — Page 96
ب المسيح 96 فارسی میں ” دنبال چشم ، آنکھ کے کنارے کو کہتے ہیں آنکھ کا وہ حصہ جس میں سرمہ لگاتے وقت سرمے کو طویل کر دیا جاتا ہے۔اسی بنا پر ایسی آرائش چشم کو سرمہ دنبالہ دار کہتے ہیں (ایسی کیفیت چشم کو کن انکھوں سے دیکھنا بھی کہتے ہیں۔مگر کسی اور زبان کی ترکیب لفظی سے وہ معنوی دلالتیں پیدا نہیں ہو سکتیں جو دنبال چشم“ نے پیدا کی ہیں۔اس ترکیب لفظی میں استغنی اور محویت اور غیر اللہ سے انقطاع کا انداز بھی ہے۔ایک انداز محبوبیت بھی ہے اور بہت کچھ ہے جس کو آپ کے عاشق ہی سمجھ سکتے ہیں۔دوبارہ سُن لیں۔بدنبال چشمے چومے بنگرند جہانے بدنبال خود می کشند اسلامی دنیا میں واقعاتی طور پر تو یہ حادثہ دو مرتبہ ہی ہوا ہے اول ہمارے آقا اور ہادی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کہ آپ نے ایک نظر سے ایک جہان کو اپنا غلام بنالیا اور دوسرے آپ کے نائب اور مثیل حضرت اقدس علیہ السلام کے وقت میں کہ ایک نیم وا چشم سے ایک جہاں کو اپنی محبت میں مبتلا کر دیا۔یہ امر نا ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی سب سے بڑھ کر محبت کا جذبہ پیدا نہ کیا ہو اور ایسا حکم صادر فرما دے۔یہی تحفہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو عطا کیا۔وَالْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةٌ مِّنِ وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي اور پھر حضرت اقدس کو یہ نوید عطا کی جیسا کہ الہام حضرت اقدس میں فرمایا: وَالْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةٌ مِّنِي وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي آپ حضرت اس الہام کا ترجمہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (طه: 40) اور اپنی طرف سے تجھ میں محبت ڈال دی تا میرے رو برو تجھ سے نیکی کی جائے۔“ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: تذكرة صفحہ 72 - مطبوعہ 2004ء) اپنی طرف سے میں نے تجھ پر محبت ڈال دی یعنی تجھ میں ایک ایسی خاصیت رکھ دی کہ ہر ایک جو سعید ہوگا وہ تجھ سے محبت کرے گا اور تیری طرف کھنچا جائے گا۔میں نے ایسا کیا تا کہ تو میری آنکھوں کے سامنے پرورش پاوے اور میرے رُو برو تیرا نشونما ہو۔( تفسیر حضرت اقدس زیر آیت ) یہ وہ عظیم الشان تحفہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے تمام عاشقان الہی کو عطا کیا ہے اور حقیقی عاشقانِ الہی انبیاء اور مرسلین