آداب حیات

by Other Authors

Page 72 of 287

آداب حیات — Page 72

سنوارے کہ تو نے مجھے سنوارا۔حدیث شریف میں آتا ہے کہ نبی کریم نے فرمایا ہے کہ جو شخص اچھی طرح کامل دھو کرے۔پھر نماز کے لئے کھڑا ہو۔اور نماز کا رکوع و سجود پورا کرے اور اس میں قرآت اچھی طرح پڑھے۔اس کو نماز کہتی ہے۔خدا تعالیٰ مجھے محفوظ رکھے جیسا کہ تو نے مجھے محفوظ رکھا۔پھر نماز کو فرشتے آسمان کی طرف لے جاتے ہیں۔اور اس نماز میں روشنی اور نور ہوتا ہے اور اس نماز کے لئے آسمان کے دروازے کھوئے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ خدا کے حضور میں پہنچ کر اپنے نمازی کے لئے سفارش کرتی ہے۔اور حبیب کوئی نمازہ کار کوع اور سجود ضائع کرے اور اس میں قرآت ٹھیک نہ پڑھے تو نماز اس کو کہتی ہے خدا تعالیٰ تجھے ضائع کرے جیسا کہ تو نے مجھے ضائع کیا۔پھر فرشتے اس کو اوپر لے جاتے ہیں اور اس نماز میں اندھیرا ہوتا ہے جب آسمان کے پاس پہنچتی ہے تو آسمان کے درخانے نے اس نماز کے آگے بند کئے جاتے ہیں پھر اس نماز کو پرانے کپڑے کی طرح پھیٹ کو فرشتے اس نماز کے پڑھنے والے کے منہ پر مارتے ہیں۔مجموعه فتقادی احمدیہ جلد اول ص ۷ مرتبه مولوی فضل محمد خان صاحب جنگوی) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندے کے عمل میں سے سب سے پہلے جس عمل کا حساب ہوگا وہ نماز ہے اگر یہ درست نکلی تو وہ کامیاب دیا مراد ہوگیا۔لیکن اگر یہی خراب نکلی تو وہ ناکام و نا مراد رہے گا۔د ترندی البواب الصلوة باب ان اول ما يحاسب به العبد يوم القيامة الصلوة) -۱۳ نماز کو خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا چاہیے۔اس لئے ضروری ہے کہ نماز کی عربی عبارات کا مفہوم اور معانی آتے ہوں اللہ تعالی سورۃ المومنون رکوع ما ایت نمیبر ۲ ۲ میں فرماتا ہے۔