آداب حیات — Page 70
سے سر اٹھاتے تو پوری طرح بیٹھنے کے بعد دوسرا سجدہ کرتے۔اور ہر دورکعتوں کے بعد تشہد کے لئے بیٹھتے۔اپنا دایاں پاؤں کھڑار کھتے اور بایاں بچھادیتے اور اس طرح بیٹھ کر تشہد پڑھتے۔اور شیطان کی طرح بیٹھنے یعنی ایڑیوں پر بیٹھنے سے منع فرماتے اور سجدہ میں بازد بجھانے سے منع فرماتے۔جس طرح کہ کتا اپنے بازو بجھا کہ بیٹھتا ہے۔آخر میں آپ السلام علیکم در حمہ اللہ کہ کہ ناز ختم کرتے۔د مسند احمد بن حنبل جلد 4 ص ۳ مطبوعہ مطبع میمنہ مصر) سجدہ کو سات ہڈیوں پر بجالانا چاہیئے کیونکہ حضور فرماتے تھے۔مجھے سات ہڈیوں پر سجدہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔پیشانی کے بل۔اور آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنی تاک، دونوں ہاتھوں اور دونوں گھٹنوں اور دونوں پیروں کی انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔تجرید بخاری حصہ اول ص ۱۹) نماز کو ٹھہر ٹھہر کر اور سنوار کر پڑھنا چاہیئے۔مقررہ عبادات، دعائیں اور تلاوت اپنے اپنے موقع پر عمدگی کے ساتھ پڑھی جانی چاہیے۔نماز توجہ کے ساتھ ادا کی جانی چاہئیے اللہ تعالیٰ متقیوں کی صفات بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ويقيمون الصلوة (سورة البقرة :۴) کہ وہ اپنی تمام نمازوں کی درستگی کا خیال رکھتے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی درستگی کا بہت خیال فرمایا کرتے تھے۔اور بہت سنوار کر اور عمدگی سے نماز ادا کیا کرتے تھے۔حضرت عالیہ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رمضان یا غیر رمضان میں پھیلی رات میں گیارہ رکعت سے زیادہ نفل نماز نہیں پڑھتے تھے۔آپ چار رکعتیں پڑھتے ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا نہ پوچھئے ریعنی نماز بہت سنوار کر اور لمبی پڑھتے پھر چار رکعتیں پڑھتے تھے ان کی خوبصورتی اور لمبائی کا نہ پوچھئے۔پھر اس کے بعد تین رکعتیں پڑھتے۔