آداب حیات — Page 67
46 ہے۔منہ سے نیت کے الفاظ ادا کرنے ضروری نہیں۔البتہ توجیہ پڑھنا مناسب ہے اور الفاظ ادا البتہ توجیہ یہ ہے۔إني وَجَهتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا ( سورة الانعام (۸۰) أنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ یقیناً میں نے اپنی توجہ اس ذات کی طرف کی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو سی کیا۔خالص خدا تعالیٰ کی طرف جھکتے ہوئے یا موحد ہو کر اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ے۔حیب اللہ اکبر کہ کہ نماز شروع کر دی جائے تو اس کے بعد کوئی اور کام نہ کیا جائے اور نہ بات کی جائے بلکہ نماز ادا کی جائے اور نماز پڑھتے ہوئے نظر سجدہ گاہ کی طرف رکھی جائے نماز میں ایک سے زیادہ دفعہ حرکت کرنا نماز کو مکروہ کر دیتا ہے۔حضرت معینقیب سے مروی ہے کہ نبی کریم صل اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کی نسبت جو سجدہ کرتے وقت میٹی برا یہ کرتا تھا یہ فرمایا کہ اگر تم یہ کرنا ہی چاہتے ہو تو ایک مرتبہ سے زیادہ نہ کرو - دستجرید بخاری حصہ اول ص ۲۴۷ ۲۴۶) ، حدیث شریف میں آتا ہے حضرت علی بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، نماز کی کلید طہارت ہے ناز کی تحریم تکریم ہے۔نماز کی تعلیل تسلیم ہے۔یعنی للہ اکر کہنے کے بعد نماز کے علاوہ کوئی اور بات یا کام کرنا منع ہو جاتا ہے اور سلام کے بعد تمام وہ کام جو نماز میں منع تھے وہ جائز ہو جاتے ہیں۔( ترمذی ابواب الطهارة باب ما جاران منفتاح الصلوة الطهور) نماز سے باہر دانے کی بات کی طرف توجہ کرنا اور بات کا جواب بھی دینا منع ہے بلکہ نماز میں سلام کرنا یا جواب دینا نا جائز ہے۔حضور فرماتے تھے نہیں نماز میں سکوت کا حکم دیا گیا ہے۔تجرید بخاری حصہ اول ص (۲۴۲)