آداب حیات — Page 61
اے اللہ مجھے تو بہ کرنے والوں میں سے نیا اور مجھے پاکیزگی اختیار کرنے والوں میں سے بنا۔نماز ادا کرنے سے پہلے وضو کرنے کا حکم قرآن مجید میں چھٹے سیپارے کے چھٹے رکوع میں آیا ہے۔يايُّهَا الَّذِينَ امنوا إِذَا تُمْتُم إِلى الصَّلوة فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَايْدِيكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُؤُوسِكُمْ وَأَن جَنَّكُمْ إِلَى الكَعْبَيْنِ (سورة المائده :) اے مومنو! جب تم نماز کے لئے کھڑے ہو تو اپنے چہروں اور ہاتھوں کو کیوں تیک دھولو۔اور اپنے سروں کا مسح کر لیا کرو۔اور اپنے پاؤں کو ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔وضو کے لئے اگر پانی میسر نہ ہو۔یا انسان بیمار ہو۔یا بیمار ہونے کا خدشہ ہو تو پھر وضو کی بجائے تقسیم کا حکم آیا ہے۔جب کہ ارشاد باری تعالی ہے۔فَتَيَمَّمُوا صَعِيداً طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ (سورة المائده : ۷ پس تم پاک مٹی سے تمیم کر لیا کرو۔اور اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں کا اس سے سے کر لیا کرو۔حضرت عثمان بن عفان سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما مَن تَوَضَّأَ فَاحْسَنَ الوُضُوءَ خَرَجَتْ خَطَايَاهُ مِنْ جَسَدِهِ حَتَّى تَخْرُجَ مِنْ تَحْتِ أَطْفَارِ؟ ر مسلم كتاب الطهارة باب خروج الخطايا مع ماء الوضوء) جو شخص اچھی طرح وضو کرے اس کے قصور اس کے جسم سے یہاں تک کہ اس کے ناخنوں کے اندر سے بھی نکل جاتے ہیں۔