آداب حیات — Page 55
ده اور وہ جواب میں اس کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے۔بخاری کتاب الادب باب لا تسب الرجل والده ) - والدین کے لئے دعائیں کرتے رہنا چاہئیے۔اللہ تعالے نے والدین کے حقوق قائم فرماتے ہوئے ان کے لئے دُعا بھی سکھائی ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔وقل رب ارحمهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا۔رسورۃ بنی اسرائیل : (۲۵) اور تو کہہ کہ اے میرے رب ! تو ان دونوں پر رحم فرما جس طرح انہوں نے رحمت و شفقت سے بچپن میں مجھے پالا ہے۔نماز کی دعاؤں میں انسان اپنے والدین کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے اور اپنے کرب سے یوں گویا ہوتا ہے۔ربنا اغفر لي وَلِوَالِدَى (ابراہیم (۲۲) اے میرے پروردگار مجھے اور میرے والدین کو بخش دے۔والدین کے اقارب سے بھی محسن سلوک سے پیش آنا چاہئیے۔اگر وہ ضرورتمند ہوں تو ان کی مدد کرنی چاہئیے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ ولم نے والدین کے قادر ہے محبت کرنے اور ان کی خدمت کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔حضور فرماتے تھے کہ چچا باپ کی مثل ہوتا ہے۔ایک دفعہ آپؐ نے فرمایا۔جس نے میرے چچا ر حضرت عباس ) کو ایذاودی اُس نے مجھے ایزاد دی۔ترندی ابواب المناقب باب مناقب الى العضل عم النبي وهو العباس بن عبدالمطلب) ایک دفعہ آپ نے حضرت عباس کی زکوۃ اپنے پاس سے دی اور فرمایا چھا بھی تو باپ کی مثل ہوتا ہے۔ر مسلم کتاب المذكورة باب ما يجب فيه الحشر و نصف الحشر)