آداب حیات — Page 54
۵۴ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے۔مَن أدرك أحد والديهِ ثُمَّ لَمْ يُغْفَرُ لَه مابعده الله عز وجل رواه احمد ر مسند احمد بن حنبل جلد ام ۳۴۲ مطبوعہ مطبع سیمینه مصر یعنی جس شخص کو اپنے والدین میں سے کسی کی خدمت کا موقع ملے پھر اس کے گناہ معاف نہ کئے جائیں تو خدا اس پر لعنت کرے۔اللہ تعالے نے والدین کی احسانمندی کو اپنی احسانمندی کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے۔ان اسكولي وَلِوَالِدَيْكَ - (لقمان : ١٥) کہ میرا شکر کر اور اپنے والدین کا بھی احسان مندرہ۔خصوصا جب وہ بڑھاپے میں پہنچ جائیں تو ان کا پورا ادب کیا جائے۔اپنی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکالی جائے جو انہیں میری معلوم ہو۔انہیں نہ سنایا جائے اور نہ دُکھ دیا جائے بلکہ زمی اور تہذیب کے ساتھ ان کے ساتھ گفتگو کی جائے تاکہ ان کی رضامندی حاصل ہو۔-4 والدین کے ادب واحترام کے ضمن میں انسان پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ ایسا طرز عمل اختیار کرے کہ دنیا والے بھی اس کے والدین کے ساتھ عزت احترام سے پیش آئیں۔اُسے چاہیئے کہ وہ دوسروں کے والدین کی عزت و تحریم کرے اور اُن کے ساتھ کبھی گستاخانہ کلام نہ کرے۔حدیث میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔والدین کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے۔صحابہ نے عرض کیا۔کیا کوئی شخص اپنے والدین کو بھی گالی دیتا ہے ؟ فرمایا۔کوئی شخص کسی کے ماں باپ کو گالی دیتا ہے