آداب حیات — Page 44
୯୯ اور جب حکم دوں تو لیقدر اپنی طاقت کے اس کی تعمیل کرد۔بخاری کتاب الاعتصام باب الاقتداء لبن الرسول حابہ کرام نے حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کی پیردی است از رنگ میں کی۔حضرت عالیش این ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطا یے کو دیکھا کہ حجر اسود چومتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ میں جانتا ہوں کہ تو پھر ہے نہ نفع پہنچائے۔نہ ضرر دے سکے۔اگر ہمیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دیتے نہ دیکھتا تو تجھے کبھی بوسہ نہ دیا۔اسبخاری کتاب المناسك باب ما ذكر في البحر الاسود) عبد اللہ بن مفضل سے روایت ہے کہ رسول الی الہ علیہ تم نے شکار کرنے کیلئے پھر گولیاں پھینکنے سے منع فرمایا کہ جب اس سے نہ شکار مرے نہ دشن زخمی ہو۔تو مضر ہے۔ہاں بے شک آنکھ پھوڑتا اور دانت توڑتا ہے۔استخاری کتاب الذباح والصيد والسمية باب الحذف والبنونة ابن مفضل کے ایک رشتہ دار نے ایسا کیا۔آپ نے اسے منع فرمایا۔وہ نور کا تو فرمایا۔میں نے رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کا حکم بیان کیا۔اور تم پھر بھی رہی کیا کرتے ہو ہیں تم سے عمر بھر کلام نہ کردوں گا۔بخاری کتاب الذبائح والصيد والمقسميه باب الحذف والبندقة) نبی کا ادب ملحوظ رکھتے ہوئے ایسے ذومعنی الفاظ استعمال نہیں کرنے چاہئیں۔جن الفاظ کے مادہ میں ہے ادبی گستاخی اور اہانت پائی جائے ہمیشہ ادب کے الفاظ اور طریقے استعمال کرنے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تَقُولُوا المَا وَقُولُوا الْفُرْنَا وَاسْمَعُوا وللكَافِرِينَ عَذَاب الیم (سورة بقره (۱۰۵) اے ایماندار و ! رسول کو مخاطب کر کے راعنا مت کہا کرو اور انتظر نا کہا کہ دو اور غور سے اس کی بات سنا کرو۔اور منکروں کے لئے دردناک عذاب مقدر ہے