آداب حیات — Page 40
پیچھے کی طرف بھاگتی تھیں۔یہاں تک کہ عباسی کی آواز میدان میں گونجنے لگی کہ اسے سورۃ بقرہ کے صحابیواے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کرنے والو! خدا کا رسول تمہیں جاتا ہے۔" یہ آواز جب میرے کان میں پڑی تو مجھے یوں معلوم ہوا کہ میں زندہ نہیں بلکہ مردہ ہوں اور اسرائیل کا صور فضا میں گونج رہا ہے۔ہیں نے اپنے اونٹ کی لگام زور سے کھینچی اور اس کا سر پیٹھ سے لگ گیا۔لیکن وہ انشاید کا ہوا تھا کہ جونہی میں نے لگام ڈھیلی کی وہ پھر پیچھے کی طرف دوڑا۔اس پر میں اور میسر بہت سے ساتھیوں نے تلواریں نکال لیں۔اور کئی تو اونٹوں پر سے کود گئے اور کئی نے اونٹوں کی گردنیں کاٹ دیں۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دوڑنا شروع کر دیا۔اور چند لمحوں میں ہی وہ دس ہزار صحابہ کا لشکر جو بے اختیار مکہ کی طرف بھاگا جا رہا تھا آپ کے گرد و جمع ہو گیا اور تھوڑی دیر میں پہاڑیوں پر چڑھ کر اس نے دشمن کو تحس نحس کر دیا اور یہ خطر ناک شکست ایک عظیم الشان فتح کی صورت میں بدل گئی۔التفسير كبير سورۃ النور جلد ششم در ۴۰، ۴۱۰م نیا ایڈیشن) مومنوں کو چاہیے کہ وہ اللہ کے رسول کے سامنے بڑھ بڑھ کہ باتیں نہ کیا کریں۔اور نہ ہی وہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام پر اپنی آرزؤں اور دلی خواہشوں کو ترجیح دیا کریں۔حبیب کہ اللہ تعالیٰ سورۃ الحجرات آیت نمبر ۲ میں فرماتا ہے۔ايُّهَا الَّذِينَ امَولَا تَقدِمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ واتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللَّهَ سَيْعُ عَلِيمٌ ٥ اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کیا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً اللہ تعالیٰ خوب سننے والا اور خوب جاننے والا ہے۔حابه کرام و حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارفع مقام کو جانتے تھے اور پاس ادب کرتے ہوئے حضور کے سوالوں کے جواب میں کہتے تھے۔اللہ اور اس کا رسول ہم