آداب حیات — Page 39
۳۹ اللہ تعالیٰ سورۃ النور میں فرماتا ہے۔لا تَجْعَلُوا دُعَاءَ الرَسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا ط ( النور : ۲۴) اے مومنو! یہ نہ سمجھو کہ رسول کا تم میں سے کسی کو بلانا ایسا ہی ہے جیسا کہ تم میں سے بعض کا بعض کو بلانا۔بلکہ نبی کی آواز کا جواب دینے کے متعلق تو یہاں تک حکم ہے کہ اگر انسان اس وقت نماز پڑھ رہا ہو تو اس کا فرض ہوتا ہے کہ وہ نماز توڑ کر خدا تعالیٰ کے ہول کی آواز کا جواب دے لا تفسير كبير سورة النور جلد ششم مه ۴۰، ۴۰۹ نیا ایڈیشن) صحابہ کرام انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر پروانہ کی طرح آپ کے گرد جمع ہو جایا کرتے تھے ، تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ حنین کے موقعہ پر جب اسلامی شکر میں بھگدڑ مچ گئی۔اور کفار کا لشکر جو تین ہزار تیر اندازوں پر شمل تھا آپ کے دائیں بائیں پہاڑیوں پر چڑھا ہوا، آپ پر تیر برسا رہا تھا۔اور آپ کے گرد سرف بارہ صحابی رہ گئے تھے۔اس وقت بھی آپ آگے بڑھتے رہے اور جوش سے کہتے جاتے تھے۔انا النبيُّ لا كَذِبُ - أَنَا ابْنُ عَبد المطلب ہوں۔بخاری کتاب التفسیر باب و یوم حنين اذا اعجبتكم ) یعنی میں موعود نبی ہوں۔چھوٹا نہیں ہوں۔میں عبد المطلب کا بیٹا یعنی پونا ) آپ کے چچا حضرت عباس کی آواز بہت اونچی تھی۔آپ نے ان کو فرمایا۔عیاس۔آگے آؤ۔اور آواز دو۔اور بلند آواز سے پکارو کہ اے سورۃ بقرہ کے صحابیو ! اے حدیبیہ کے دن درخت کے نیچے بیعت کرنے والو ! خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ مکہ کے تازہ نو مسلموں کی بزدلی کی وجہ سے حسب اسلامی تشکرہ کا اگلا حقہ پیچھے کی طرف بھاگا تو ہماری سواریاں بھی دور پڑیں اور جتنا ہم روکتے تھے اتنا ہی وہ