آداب حیات — Page 38
قرآن پاک میں اس جاہ وجلال اے نبی اورحبیب کبریا سے فیض حاصل کرنے کے آداب بیان کئے گئے ہیں مومن جب کسی قومی مشورہ کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھے ہوں تو وہ بغیر اجازت کے آپ کی مجلس سے نہ جائیں۔اگر وہ الیسا کریں گے تو وہ مومن نہیں ہوں گے۔جیسا کہ قرآن پاک میں مذکور ہے۔اِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِيْنَ آمَنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمر جَامِعَ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْنَا زِنْؤُهُ إِنَّ الَّذِينَ يَشَا دُونَكَ أولَئِكَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَرَسُوله - (سورة التورا ۶۳) صرف وہی لوگ مومن کہلانے کے مستحق ہیں جو اللہ اور رسول پر ایمان لاتے ہیں اور جب کسی (قومی) کام کے لئے (اس) رسول کے پاس بیٹھے ہوں تو اٹھ کر نہیں جاتے۔جب تک اس کی احیازت نہ لے لیں۔وہ لوگ جو کہ اجازت لے کر جاتے ہیں وہی اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں۔سول کریم صلی الہ علیہ وسلم اپنے صحابیہ کو اس شدت کے ساتھ اس ہدایت پر عمل کرنے کی تاکید فرمایا کرتے تھے کہ انہیں طبعی ضروریات کے لئے بھی مجلس سے بلا اجازت جانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ایسی حالت میں صحابہ سرک کر سامنے آجاتے با انگلی اٹھا دیتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھے جاتے کہ کوئی حاجت ہے اور ہاتھ کے اشارہ سے جواب دے دیتے۔ا تفسير كبير سورة النور مر ۴۰ جلد ششم نیا ایڈیشن) رسول کی آواز کو عام لوگوں کی آواز کی طرح خیال نہیں کرنا چاہئیے مومن کا فرض ہے کہ جب اس کے کان میں رسول کی آواز آئے تو اس پر فورا لبیک کہے۔اور اس کی تعمیل کے لئے دوڑ پڑے۔-