آداب حیات — Page 36
امنوا بالله وله مسله ( سورة آل عمران آیت (۸۰) پس تم اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عقائد ایمان میں سے یہ بات قرار دی ہے کہ تمام پیغمبروں اور ان کی کتابوں پر ایمان لایا جائے پس توحید کے بعد محمد کی رسالت کا دل و جان اور عمل سے اقرار کہ نا تو انسان کو جنت کا مستحق بنا دیا ہے۔انبیاء علیہم السلام کی عزت کے لئے غیرت دکھائی جائے۔ان کی عزت و عظمت کے خلاف ایک لفظ بھی سننا گوارا نہ کیا جائے اور نہ ان مجالس میں بیٹھا جائے جن میں ان کے خلاف دل آزار باتیں کی جارہی ہوں اور ان کا تمسخر کیا جارہا ہو۔انبیاء آیات اللہ ہوتے ہیں۔ان کی عزت دستان کی حفاظت کی جائے ، جیب کہ سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الكِتبِ آن إِذَا سَمِعْتُمُ ايَتِ اللهِ لكيف بها ويُسْتَها بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمُ (النساء : ۱۴۱) اور اس نے اس کتاب میں تم پر یہ حکم انار چھوڑا ہے کہ جب تم اللہ کی آیتوں کے متعلق اظہار انکار سنو یا ان سے استہزاء ہوتا ہوا سنو۔تو تم ان کے ساتھ مت بیٹھو یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہو جائیں تم ان کے پاس بیٹھنے کی صورت میں ان جیسے سمجھے جاؤ گے۔۔4 کمال ادب کا یہ تقاضا ہے کہ انبیاء کے رنگ میں رنگین ہونے کی کوشش کی جائے۔ان کے محاسن و شمائل ان کی عادات واخلاق۔ان کے اطوار زندگی کو اپنا یا جائے اور چونکہ انبیاء کی صفات و کمالات کا کامل نمونہ اور جامع وجود محمد عربی صلی الله علیہ وسلم کی ذات بابرکات ہے۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم خدا تعالیٰ کے انوار کا خلاصہ ہیں اور فضل و ہدایت حاصل کرنے کا منبع ہیں۔آپ اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے درمیان