آداب حیات — Page 32
۳۲ مطابق یقین اور ایان کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتے ہیں اور اپنی پاک روحانی تاثیرات سے اور خدائی نصرت سے اپنے دشمنوں اور مخالفوں پر غلبہ پاتے ہیں۔سلسلہ ثبوت اور رسالت تمام اقوام میں جاری وساری رہ چکا ہے۔انبیاء کے اس سلسلہ میں فخر دو جہاں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم سماء روحانیت کا وہ سراج منیر ہیں جن کی منو پاکش کرنوں سے کائنات کا ذرہ ذرہ چمک اُٹھا۔جن کے وجود اطہر سے تمام انبیار کی صداقتوں کو محفوظ کر دیا گیا اور جین کی بعثت تمام بنی نوع انسان کے لئے تھی۔اللہ تعالیٰ نے خود آپ کی زبان مبارک سے یہ اعلان کروایا۔نُدْيَا يُّهَا النَّاسُ إِني رَسُولُ اللهِ الَكُمْ جَمِيعًا (سورة الاعراف (۱۵۹) کہ اسے لوگو یا میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔پس آج بھی اس زندہ نبی حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا فیض جاری و ساری ہے۔آج بھی آپ کے سکھائے ہوئے آداب و اطوارا در اخلاق کریمانہ ہیں ایک کامیاب اور مثالی اور جنتی زندگی گزارنے کا درس دے رہے ہیں۔ذیل میں قرآن مجید اور سنت نبوی اور حدیث کی روشنی میں نئی سے فیض حاصل کرنے کے آداب درج کئے جاتے ہیں۔انبیاء کرام کے نام پیشہ عزت واحترام کے ساتھ لئے اور تحریر میں لائے جائیں اللہ تعالیٰ سورہ منافقون میں فرماتا ہے۔وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَلكِنَّ المُنافِقِينَ لا يعلَمُونَ ) (منافقون : 9) حالانکہ عزت اللہ ہی کے لئے اور اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے لیکن یہ منافق نہیں جانتے۔۰۲ انبیاء علیهم السلام کا نام لیتے اور لکھنے) پر علیم السلام ضرور کہا جائے۔کہ خدا تعالیٰ کے ان برگزیدہ وجودوں پر خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ سلامتی اور