آداب حیات — Page 266
ہوتی ہے۔گھر والے رونے لگے تو فرمایا کہ تم اپنے نفسوں پرنہ بکر خیر کے دوسری دُعامت کرو۔کیونکہ فرشتے جو کچھ تم کہتے ہو۔اس پر آمین کہتے ہیں۔پھر آپؐ نے فرمایا۔اسے اللہ ابو ساریہ کو بخش اور اس کا درجہ ان لوگوں میں بلند کر جن کو ہدایت کی گئی ہے اور اس کے پچھلوں میں تو اس کا خلیفہ ہو۔اور ہم کو اور اس کو اے رب العالمین بخش اور اس کے لئے اس کی قبر میں فراخی دے اور اس کی قبر میں اس کے لئے روشنی کر۔ا مسلم کتاب الجنائز باب ما يقال عند المريض والمبيت واعماص المبيت) میت کا ذکر خیر کرنا چاہیے۔حضور نے فرمایا۔جو شخص میت کو نہلائے اور اس کی پردہ پوشی کرے۔اللہ تعالے اس کی چالیس بار مغفرت کرتا ہے۔(مسلم) تعزیت کے لئے جائیں تو وہاں فضول باتیں نہ کریں اور نہ ہی کوئی ایسی حرکت یا بات کریں جس سے مرحوم کے اعزہ کو یہ خیال گزرے کہ یہ لوگ ہمارے دُکھ میں شریک ہونے نہیں آئے بلکہ معنی رسما آئے ہیں۔- جزع فزع کرنا اسلام میں منع ہے۔تعربیت کے وقت چھاتی کوٹنا، سر کے بال کھول کر رونا اور چلانا ، گریبان پھاڑنا اور بے مہری کے کلمات کہنا سب جاہلیت کی رسمیں ہیں۔جھوٹا دیکھا گیا ہے کہ ماتم پرسی کرنے والے ہمسائے اور رشتہ دار صبر کرنے کی تلقین کرنے کی بجائے مرحوم کے اعزہ کے ساتھ مل کر رونے پیٹنے میں شریک ہو جاتے ہیں۔یاد رکھنا چاہیے کہ ان باتوں سے اللہ تعالٰے اور اس کا رسول ناراض ہو جاتے ہیں۔اور انسان کا ایمان اور ثواب ضائع ہو جاتا ہے۔حضور نوحہ اور ماتم کو نا پسند فرماتے تھے۔حضرت جعفر جو آپ کے چچازاد بھائی تھے۔اُن سے آپ کو بہت محبت تھی۔جب ان کی شہادت کی خبر آئی۔تو آپ مجلس ماتم میں بیٹھے۔اسی حالت میں کسی نے کہ کہا کہ جعفر کو عورتیں رو رہی ہیں۔آپ نے فرمایا کہ جاکرہ منع کر دو۔وہ گئے اورایس