آداب حیات — Page 24
۲۴ مثل ہے اگر اس کی خبر داری کرو تو ڑ کا رہے گا اور اگر اس کو کھولا تو چلا جائے گا۔ا مشكوة كتاب فضائل القرآن باب في مزاولة تلاوة القرآن) قرآن مجید کو بھولنے سے بچانا چاہیئے حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ بات بڑی ہے کہ کوئی تم میں سے کہے کہ فلاں فلاں آیت بھول گیا۔بلکہ یہ کہے کہ وہ آیت مجھ سے بھلادی گئی۔اور قرآن یا درکھو کیونکہ دہ آدمیوں کے سینوں سے چلے جانے میں وحشی جانور سے زیادہ ہے۔تجرید بخاری حصہ دوم ص ۳۸۳) ۱۸: قرآن مجید کی آیات کی تلاوت کے وقت مندرجہ ذیل کلمات جوا یا پڑھنے چاہئیں۔مثلاً سورۃ الفاتحہ کے آخر میں ولا الضالین کے جواب میں امین کہنا مستحب ہے اس کے معانی ہیں۔اے اللہ ! تو ہماری دعا قبول فرما۔وائل بن حجرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں میں نے سنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالين کہ کر امین کہتے تھے اور آواز دراز کرتے تھے۔ر مشکوة كتاب الصلاة باب القرأة في الصلوة) صحیحین میں حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب امام امین کہے تم بھی امین کہو۔جس کی امین فرشتوں کی امین سے مل جائے اس کے تمام اگلے گناہ معاف ہو جاتے ہیں۔بخاری کتاب الدعوات باب التأمين) واک سورة فتح میں مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللہ کے جواب میں صلی اللہ علیہ وسلم کیا چاہئے۔سورة الرحمن میں حباتى الآء ا بكُمَا تُكَذِّبَانِ کے جواب ہیں لَا بِشَيْءٍ مِن نِعْمَتِكَ نُكَذِّبُ يَا ربنا۔اے ہمارے رب ہم تیری نعمتوں میں سے کسی چیز کی بھی تکذیب نہیں کرتے۔(ترمذی ابواب التفسیر تفسیر سورة رحمن)