آداب حیات — Page 256
کی شکایت کی جو اس کے جسم میں ہو رہا تھا تو رسول کریم نے فرمایا۔اپنا دایاں ہاتھ رکھ یہاں درد ہو رہا ہے اور تین بار بسم اللہ پڑھ اور سات بار پڑھ اَعُوذُ بِعِزَّةِ اللَّهِ وَ تدريهِ مِن شَرِّ مَا أَجِدُ وَ أَحَاذِرُ مسلم کتاب السلام باب استحباب وضع يده على الموضع الالم مع دعا) میں اللہ تعالیٰ کی عزت اور قدرت کی پناہ پکڑتا ہوں اس مشر اور تکلیف سے جس کو میں پانا ہوں اور میں بچاؤ کرتا ہوں۔-1۔۱۰ - مریض کو چاہیے کہ وہ بے صبری کے کلمات نہ کہے اور نہ ہی موت کی تمنا کرے۔اور زندگی سے مایوس نہ ہو۔حدیث میں آتا ہے۔انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا اس مصیبت کی وجہ سے نہ کرے جو اسے پہنچتی ہے۔اور اگر ایسا کرنا ضروری ہی سمجھے تو یہ کہے اسے اللہ یا جب تک میرا زندہ رہنا میرے لئے بہتر ہے۔اس وقت تک نہیں زندہ رکھے اور مجھے وفات دے۔اگر کر جانا میرے لئے بہتر ہے۔(بخاری کتاب المرضى باب نہی تمنى المريض الموت) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے۔اس لئے کہ یا تو نیکو کار ہوگا تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی نیکی میں اضافہ کرے اور اگر بد کار ہے تو امید ہے کہ وہ تو بہ کرنے۔دسبخاری کتاب المرضى باب بنی تمنى المراض الموت) حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرت کو اس حال میں کہ مجھے پر سہارا نگائے ہوئے تھے فرماتے ہوئے سنا کہ اللهُمَّ اغْفِرْ لِي وَالحَمنِي وَالْحِقْنِي بِالرفيق - کہ اے میر