آداب حیات — Page 22
۲۲ ہو یا بیٹھا ہوا سے سجدہ تلادت بجالانا چاہیئے۔یہ سجدہ جتنا جلدی کیا جائے اتنا ہی اچھا ہے یہاں تک کہ اس کے لئے وضو کا ہونا بھی کوئی اب ضروری نہیں۔اس سجدہ میں تسبیحات مسنونہ کے علاوہ یہ دُعا مانگی جاتی ہے۔سجد وجنى الَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوتِهِ تمندی ابواب الدعوات باب ما يقول في سجود القرآن جلد ۲ ص ۱) ترجمہ و میرا چہرہ سجدہ ریز ہے اس ذات کے سامنے جس نے پیدا کیا اور اپنی قدرت خاص سے اسے سنے اور دیکھنے کی قوت عطا کی۔اللهُمَّ سَجَدَ لكَ سَوَادِي وَأمَن بِك فؤادی اے اللہ میراجسم تجھے سجدہ کرتا ہے اور میرا دل تجھ پر ایمان لانا ہے۔اور سجدہ تلاوت میں یہ دعا بھی پڑھی جاتی ہے سَجَدَلكَ رُوحِی وَجَسَدِي وَجَنَانِي۔نرمندی ما یقول في سجود القرآن جلد ۲ ص ۱۸) کہ اے اللہ ! سجدہ کیا تیرے لئے میری رح نے اور میرے ہم نے اور میرے دل نے۔حضرت ابن عمرانہ کہتے ہیں کہ نبی کریم اگر ہمارے سامنے وہ سورۃ پڑھتے جس میں سجدہ ہوتا تو آپ سجدہ کرتے تھے اور ہم بھی اسی وقت سجدہ کرتے تھے یہاں تک کہ ہم سے اماں سے اژدہام کے کوئی شخص پیشانی رکھنے کی جگہ نہ پاتا۔تجرید بخاری (۲۲۹۵) امام اگر نماز میں یا نماز کے علاوہ سجدہ تلاوت کرے نو مقندی بھی ساتھ کہدہ بھائی کی۔قرآن مجید کی تلاوت کرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں قرآن مجید کی بعض سور نہیں حفظ بھی کرنی چاہئیں تاکہ خدا تعالیٰ کے نور سے ہم اپنے سینوں کو منور کر سکیں۔حضور صلی اللہ علیہ دستم فرماتے تھے۔ان الَّذِى لَيْسَ فِى جُونِهِ شَيْءٍ مِّنَ الْقُرْآنِ كَالْبَيْتِ الخَرِبِ ( ترمذی ابواب فضائل القرآن)