آداب حیات — Page 208
۲۰۸ سلام کہ لیا کر و۔یہ الہ کی طرف سے ایک بڑی برکت والی اور پاکیزہ دعا ہے۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔بیٹیا جب تو اپنے گھر والوں کے پاس جایا کرے تو سلام کہا کہ تجھ پر اور تیرے گھر والوں پر برکت ہوگی۔ترمندی ابواب الاستیذان باب فی التسليم اذا دخل بيته) -۴- سلام کے لفظ میں کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کا وعدہ ہے اس لئے اگر گھر میں کوئی شخص موجود نہ بھی ہو تو بھی اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اپنے نفس پر سلام بھیجنا چاہیئے۔روایت میں آتا ہے جَاءَ رَجُلُ إِلَى النَّبِي عَلَيْهِ السَّلَامُ وَشَكَ إِلَيْهِ الْفَقْرَ فَقَالَ إِذَا دَخَلْتَ بَيْنَكَ فَسَلَّمُ إِنْ كَانَ فِيهِ أَحَدٌ وَ إِنْ لمْ يَكُن فِيْهِ اَحَدَّ فَسَلّمْ عَلى نَفْسِكَ وَاقْرَأْكُلُ هُوَ اللهُ اَحَدُ مَرَّةً وَاحِدَةٌ ر روح البیان تفسیر سورة اخلاص جلد ۱۰ ص ۵۲ مطبوعه استنبول ۱۰ یعنی ایک شخص رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی محتاجی کی شکایت کا ذکر کیا۔آپ نے فرمایا کہ جب تم گھر میں داخل ہوا ور گھر میں کوئی موجود ہو تو اس کو اسلام علیکم کہا کرو اور اگر گھر میں کوئی موجود نہ ہو تو اپنے نفس پر سلام بھیجو اور اس کے بعد سورۃ قل ھو اللہ احد ایک دفعہ پڑھو۔روایات میں آتا ہے کہ اس شخص نے آپ کے ارشاد پر عمل کرتے ہوئے ایسا ہی کیا۔چنانچہ اس کے نتیجہ میں نہ صرف اس کی غربت دور ہو گئی بلکہ اس کے پاس روپیہ اور مال کی اتنی کثرت ہو گئی کہ وہ اپنے پڑوسیوں اور ہمسایوں کی بھی مدد کیا کرتا تھا۔ر روح البيان تفسير سورة اخلاص جلد ۱ ص ۵۲ مطبوعه (استنبول)