آداب حیات

by Other Authors

Page 160 of 287

آداب حیات — Page 160

14۔رکھا ہے۔جب اپنے بھائی اپنی بہن یعنی مومنوں کے تعلقات کی بات ہو رہی ہے۔سگے بھائی یا بہن کی بات نہیں۔ان کے خلاف جب تم باتیں کرتے ہو تو مرد سے کا گوشت کھانے والی بات ہے لیکن کراہت کے ساتھ نہیں جسکے لے لے کر مثال تو ایک ہی ہے ایک جگہ تم چسکے لیتے ہو۔ایک جگہ تم کہ بہت محسوس کرتے ہو۔یہ تمہاری زندگی کا تضاد ہے جو درست نہیں ہے۔حالانکہ دونوں کو ایک ہی پیمانے سے جانچنا چاہئیے۔اس نصیحت اور اس مثال کے بعد پھر بھی انسان غیبت کے مزے اٹھاتا ہے۔جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روحانی لحاظ سے بعض باتوں کی کراہت کو جاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔وہ مثال سنتا ہے ایمان لے آتا ہے۔اللہ نے فرمایا سے ٹھیک ہی ہو گا لیکن جہاں تک، وہ سوچتا ہے ، میری ذات کا تعلق ہے، مجھے تو مزا آ رہا ہے۔مجھے بھائی کے گوشت والی کراست ذرا اس میں محسوس نہیں ہو رہی۔جس کا مطلب ہے اس کا تناظر بدل گیا ہے۔وہ جس پہلو اور جس زاویے سے چیزوں کو دیکھ رہا ہے وہ خدا کا پہلو نہیں خدا کا زاویہ نہیں ہے۔غیبت جھوٹی بات کو نہیں کہتے دو طرح سے غیبت کا احتمال ہے۔ایک سے بدنیتی کے ساتھ حملہ کرنے کی خاطر جھوٹی بات کرنا۔ایک سچی بات کو بد نیتی سے دشمنی کے نتیجے میں پھیلانا۔جو جھوٹی بات ہے اس کے دو پہلو ہیں ایک فن ہے ظن کے پردے میں شک کا فائدہ اپنے لئے اٹھاتے ہوئے کہ شاید سچ ہو، اس لئے میں جھوٹ نہیں بول رہا۔یہ حصہ ہے جو زیادہ غیبت سے تعلق رکھتا ہے۔جو واضح جھوٹ بولا جارہا ہے اس کو غیبت نہیں کہتے اس کا کچھ اور نام ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، یہ روایت مسلم کتاب البر میں درج