آداب حیات

by Other Authors

Page 156 of 287

آداب حیات — Page 156

۱۵۷ عرب میں جائے ضروریہ نہ تھے۔لوگ میدانوں میں رفع حاجت کے لئے جایا کرتے لیکن پردہ نہیں کرتے تھے بلکہ آمنے سامنے بیٹھ جایا کرتے اور ہر قسم کی بات چیت کرتے۔آنحضرت نے اس کی سخت ممانعت کی اور فرمایا کہ خدا تعالی اس سے ناراض ہوتا ہے۔این ناحیه ابواب الطهارة باب النهي عن الاجتماع على المخلاء والحديث عنده حضور کا معمول تھا کہ آپ رفع حاجت کے لئے اس قدر دور نکل جاتے کہ آنکھوں سے اوجھل ہو جاتے۔آپ جب بیت الخلاء تشریف لے جاتے تو فرماتے اللهُمَّ إِلَى اَعُوذُبِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ د سبخاری کتاب الوضو باب ما يقول عند الخلاء ے اللہ تعالیٰ میں تیری پناہ چاہتا ہوں۔نقصان پہنچانے والے گندے خیالات اور جراثیم سے اور نقصان پہنچانے والی گندگیوں اور بیماریوں سے۔(حدیقہ الصالحین ص ۲۳۳ پہلا ایڈیشن شائع کرده شعبه اشاعت وقف جدید پس ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنی زبان کی حفاظت کریں۔اپنے ہا تھ اور اپنی زبان سے کسی کو دکھ نہ دیں مثل مشہور ہے کہ تلوار کے زخم تو مندمل ہو جاتے ہیں لیکن زبان سے دیئے گئے زخم کبھی مندمل نہیں ہوتے۔الہ تعالیٰ اور اس کے رسول محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور خوشی کو حاصل کرنے کا یہ طریقہ اپنائیں کہ جب باتیں کریں تو سچ بولیں۔ہیں چاہیئے کہ ہم راست گفتار بن جائیں اور کلام کے سب آداب کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیشہ رفق و ملاطفت کے ساتھ گفتگو کریں۔ناخدائے کلیم کے پاک کلام اور خوشخبریوں سے ہم اس دنیا میں بھی مشرق ہو سکیں اور اگلے جہان میں اس کا یہ فرمان سلام قول من رب رحیم ہمیں نصیب ہو۔اے اللہ تو ایسا ہی کر۔آمین۔