آداب حیات — Page 155
۱۵۵ ادب کے ساتھ ان سے گفتگو کی جائے۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو حضور اکرم کے سامنے اُونچی آواز سے بولنے سے منع فرمایا، جب کہ سورۃ الحجرات میں فرمایا۔ياتِهَا الَّذِينَ آمَنُو الا تقدِمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ سَمْعُ عَلِيم 0 ايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَرْفَعُوا أَهْوَ الْكُمُ فَوْقَ صَوتِ النَّبِي وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالقَولِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ اعمالكم وانتم لا تَشْعُرُونَ (الحجرات : ٣٤٣) اے مومنو! اللہ اور اس کے رسول کے سامنے بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کیا کرو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔اللہ بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔اے مومنو یا نبی کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کیا کرو۔اور نہ بلند آواز سے اُس کے سامنے اس طرح بولا کر جس طرح آپس میں ایک دوسے کے سامنے اونچا بولتے ہو۔ایسانہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں۔اور تم جانتے بھی نہ ہو۔صحابہ کراہ رسول کریم کے سامنے مؤدب بیٹھتے۔۲۸ اگر کوئی مجلس میں نامناسب گفتگو کرے تو ا سے مطلع کر دینا چاہیے۔اور اگر کوئی شخص اچھی بات کہے تو اس کی داد دینا بھی جائز ہے۔حضور اکرم کی مجلس میں جب کبھی کوئی شخص اچھی بات کہتا تو آپ تحسین فرماتے اور نامناسب گفتگو کرتا تو اس کو مطلع فرما دیتے۔(شمائل ترندی باب ما جاء فی تواضع الرسول الله ) - اگر بیت الخلاء میں ہوں تو کسی سے گفتگو نہیں کرنی چاہیئے