آداب حیات — Page 126
قل لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ اَبْصَارِهِمْ ) سورة النور (۳) تو مومنوں سے کہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی صحابہ کو غض بصر کی ہدایت فرمائی اور اُسے راستہ کا حق قرار دیا۔ر احمد بن حنبل جلد ۳ ص ۳۶) شریعت نے عورت کو بھی باہر نکلنے کی اجازت دی ہے لیکن اُسے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ جب وہ باہر نکلے تو پر وہ میں نکلے۔اور اپنی زینت کو غیر مردوں کے لئے ظاہر نہ کرے اور زینت کا اصل مقام عورت کا چہرہ ہوتا ہے۔اس لئے اُسے چہرہ کا پردہ کرنے کا حکم دیا گیا اور اپنی آنکھوں کو نیچی رکھنے کی تاکید کی گئی۔تاکہ برائی کا استد باب ہو سکے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ (سورة النور : ۳۲) على جو يمن اور تو مومن عورتوں سے کہہ دے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کیا کریں۔سوائے اس کے جو آپ ہی آپ بے اختیار ظاہر ہوتی ہے اور اپنی اوڑھنیوں کو اپنے سینہ پر سے گزار کر اس کو ڈھانک کر پہنا کریں۔۵۔عورتوں کو بازار یا مردوں کے اجتماعات میں سے گزرنے کا احتمال ہو تو وہاں انہیں خوشبوں گا کر نہیں جانا چاہیئے۔گھروں میں عورتوں کے لئے خوشبو کا استعمال کرنا پسندیدہ امر ہے۔