آداب حیات

by Other Authors

Page 115 of 287

آداب حیات — Page 115

طرف توجہ کرتے۔ایک دفعہ آپ تقریر فرمارہے تھے ایک بدد آیا اور آنے کے ساتھ اس نے پوچھا کہ قیامت کب آئے گی۔آپ تقریر کرتے رہے۔حاضرین سمجھے کہ آپ نے نہیں سنا۔کسی نے کہا سنا لیکن آپ کو ناگوار ہوا۔آپ گفتگو سے فارغ ہو چکے تو دریافت فرمایا کہ پوچھنے والا کہاں ہے ؟ بدو نے کہا میں حاضر ہوں۔آپ نے فرمایا۔جب لوگ امانت کو ضائع کرنے لگیں گے۔بولا۔امانت کیونکر ضائع ہوگی۔فرمایا جب نا اہلوں کے ہاتھ میں کام آئے گا۔بخاری کتاب العلم باب من سئل علما و هو شتغل في حديثه ) ۱۸- مجالس میں فضول سوالات نہیں پوچھنے چاہئیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نغو سوالات کو نا پسند فرماتے تھے۔بعض لوگ مجلس میں حضور سے معمولی اور بے مقصد باتیں پوچھتے تھے مثلاً یا رسول اللہ امیر باپ کا نام کیا ہے ؟ میرا اونٹ کھو گیا ہے وہ کہاں ہے ؟ آپ ان باتوں کو ناپسند فرماتے تھے۔حضرت ابو موسی الم سے روایت ہے کہ ایک قصہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے چند باتیں پوچھی گئیں جو آپ کے مزاج کے خلاف تھیں۔پ نے کچھ جواب نہ دیا ) مگر جب ان سوالات کی آپ کے سامنے کثرت کی گئی تو آپ کو غصہ آگیا اور فرمایا۔جو کچھ چاہو مجھ سے پوچھو۔اس پر ایک شخص نے عرض کی میرا باپ کون ہے۔آپ نے فرمایا تیرا باپ حذافہ ہے۔پھر دوسرا شخص کھڑا ہو گیا اور کہا۔بارسول اللہ ! میرا باپ کون ہے ؟ آپ نے فرمایا تیرا باپ سالم ہے شیبہ کا مولی۔پھر جب عریض نے آپ کے چہرے مبارک پر غضب کے آثار دیکھے تو عوض کی یارسول الله ! ہم خدائے بزرگ بلند سے تو بہ کرتے ہیں۔التجرید سخاری حصہ اول ص ۴۴۲۳ 19 مجلس میں صدر مجلس سے بہت زیادہ سوال نہ کئے جائیں۔کیونکہ کثرت سوال سے انسان کی ذہنی صلاحیتیں مفقود ہو جاتی ہیں۔حابه کرام حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی فیض صحبت سے تربیت یافتہ تھے۔