آداب حیات

by Other Authors

Page 114 of 287

آداب حیات — Page 114

دفعہ دہرایا۔۱۱۴ -14 ر مسلم کتاب البر والصلة باب النهي عن الاشارة بالسلاح الى السلم ) -14 مجلس میں مقصر کی بات ہمہ تن گوش ہو کر سننی چاہیئے۔اور تقریر کے دوران شور نہیں کرنا چاہیئے، کیونکہ ایسا کرنا اسلامی روایات کے خلاف ہے۔اور جب مجلس میں قرآن مجید کی تلاوت کی جائے تو قرآن مجید کے ارشاد کے مطابق خاموشی سے اُسے سنا جائے تاکہ خدا تعالیٰ کی رحمت نازل ہو۔وَإِذَا قُرِئَ الْقُرْآنُ فَاسْتَمِعُوا لَهُ وَالْمنَ العَلَكُمْ تُرْحَمُونَ رسورة الاعراف : (۲۰۵ اور جب قرآن مجید پڑھا جائے تو تم اس کو غور سے سنو۔اور خاموش رہو تا کرم پر رحم کیا جائے ، احادیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجالس میں حاضرین ادب سے سر جھکائے بیٹھے رہتے۔خود حضور مؤدب ہو کر بیٹھتے۔اور جب بات فرماتے تو مجلس پرستان چھا جاتا اور ہر شخص پیکر تصویر نظر آتا۔حضرت براڈ سے مروی ہے کہ ہم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ باہر گئے۔آپ تشریف فرما ہوئے تو ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے۔اور ہم اس طرح خاموش بیٹھے تھے کہ گویا ہمارے سروں پر پرندے ہیں۔کال دستن نسائی کتاب الجنائز باب الوقوف للجنائز) مجلس میں تقریر کے دوران مقرر کی بات کو قطع نہیں کرنا چاہیئے۔ہوٹنگ کرنا اسلامی طریق نہیں ہے۔حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ عادت تھی کہ آپ کسی کی بات کاٹ کر گفتگو نہ فرماتے جو بات ناپسند ہوتی اس سے تغافل فرماتے تھے۔بعض اوقات حضور کی مجلس میں کوئی بدو آجاتا اور آداب مجلس سے ناواقفیت کی وجہ سے وہ آپ سے عین سلسلہ تقریر میں کوئی بات پوچھتا تو آپ تقریر جاری رکھنے اور فارغ ہو کر اس کی