آداب حیات — Page 110
11۔۴ مجلس میں کسی شخص کو اٹھا کر خود اس کی جگہ پر نہیں بیٹھنا چاہیے۔یہ نا پسندیدہ بات ہے۔حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی کسی دوسے گھر کو اس کی جگہ سے اس مرض سے نہ اٹھائے کہتا وہ خود اس جگہ میٹھے۔وسعت قلبی سے کام لو اور کھل کر بیٹھو۔مسلم کتاب السلام باب تحریم اقامته الانسان من موضعه الذي سبق اليه) حضرت ابن عمر کا یہ طریق منھا کہ آپ اس شخص کی جگہ پر کبھی نہیں بیٹھتے تھے جو آپ کو اپنی جگہ دینے کے لئے اٹھتا تھا۔( ترمذی ابواب الادب والاستیذان باب ما جاء في كرا عصبه أن يقام الرجل من مجلس به تم مجلس قبيه ہر شخص کسی ضرورت کے تحت مجلس سے اٹھ کر جائے۔اور پھر واپس آئے تو وہ اپنی جگہ کا زیادہ حقدار ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔جب تم میں سے کوئی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہو اور پھر واپس آجائے تو اس جگہ کادی زیادہ حقدار ہے۔مسلم کتاب السلام باب اذا قام من مجلسه ثم عاد فهو احق به مجلس میں جہاں جگہ ہے وہیں بیٹھ جانا چاہیئے۔لوگوں کے کندھوں سے پچھانگ کر آگے جگہ لینے کی کوشش نہیں کرنی چاہیئے۔اور نہ ہی دو آدمیوں کے درمیان جگہ بنا کر خود بیٹھنا چاہیئے ، کیونکہ حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص دو آدمیوں کے درمیان جدائی نہیں کرتا تو یہ بات اس کے گناہ معاف کرنے میں مدد دیتی ہے۔ابخاری کتاب الجمعة باب الدمن للجمعة )