آداب حیات — Page 8
آپ کے اوصاف حمیدہ اور شمائل جلیلہ اور آداب حسنہ آج بھی ہمیں ایک کامیاب، مثالی جنتی زندگی گزارنے کا درس دے رہے ہیں۔اور حقیقت یہ ہے کہ آپ کے تائے ہوئے احکامات اور فرمودات کی وجہ سے آج بھی عالمگیر نظام تربیت و تمدن کی اساس قائم ہے۔رومانیہ کی بنیاد ادب پر موقوف ہے۔حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ (آپ پر سلامتی ہو) فرماتے تھے۔الطريقة كل ما ادب ملفوظات جلد سوم ص۴۵۵ ، نیا ایڈیشن ص ۶۲) روحانیت کی تمام تر بنیاد ادب پر ہے۔روحانیت کی ترقی کے لئے ہم پر لازم ہے کہ ہم اسلام کے پیش کردہ آداب کو ہمیشہ ملحوظ رکھیں۔تا وصال الہی کردہ آداب کو کے جام نوش کر سکیں۔کتاب آداب خیاست میں جو آداب پیش کئے گئے ہیں ان کو قرآن مجید سنت نبوی اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں بیان کیا گیا ہے۔خدا کرے کہ ہم آداب زندگی کے ان بہتے ہوئے دھاروں سے تنفیض ہو کر اپنی عادات و اطوار کو اسلامی سانچے میں ڈھال ہیں۔ہمیشہ اسلامی معظمت وکٹرار کو اپنا ئیں۔اور ادب و تادیب کے میدانوں سے گزرتے ہوئے اللہ تعالے اور اس کی مخلوق کے حقوق ادا کر سکیں۔کیونکہ دین نام ہے حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا۔اللہ تعالٰے سے دُعا ہے کہ وہ اس حقیر کوشش کو قبول فرمائے اور ہمیں ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلائے۔آمین۔