آداب حیات — Page 68
4^ حضرت معاویہ بن حکم بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدار میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نمازیوں میں سے ایک آدمی کو چھینک آئی۔میں نے اس کے جواب میں یرحمک اللہ کہہ دیا یعنی اللہ تعالے تجھ پر رحم کرے۔دو کے نمازی مجھے تیز نظروں سے دیکھنے لگے۔میں نے کہا۔تمہاری ماں مرے۔تم مجھے اس طرح کیوں کچھ کر ہے ہو ؟ اس پر لوگ اپنی راتیں پیٹنے لگے جس طرح لوگ گھبراہٹ اور پریشانی میں کہتے ہیں۔تب میں سمجھا کہ دراصل یہ لوگ مجھے چپ کرانا چاہتے ہیں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ ہم نماز پڑھ چکے۔تو آپ نے مجھے بلایا۔میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں میں نے نہ اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد آپ سے زیادہ اچھا اور مدل معلم کوئی دیکھا۔خدا کی قسم ، آپ نے نہ مجھے چھیڑ کا نہ مارا نہ برا بھلا کہا بلکہ نرمی سے فرمایا۔نماز میں باتیں کرنا ٹھیک نہیں نماز میں تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن مجید ہوتی ہے۔میں نے کہا حضور میں نیا نیا مسلمان ہوا ہوں۔مسلم کتاب الصلوۃ باب تحريم الكلام في الصلوة ) نمازی کے آگے سے سانپ یا بچھو وغیرہ ظاہر ہو تو اسے مار دینا چاہیئے۔د مسند احمد بن حنبل جلد ۲ ص ۲۳۳ مطبوعہ مطبع میمینه مصر) نماز میں ادھر ادھر دیکھنا منع ہے۔اسی طرح نظر پھرانا۔بلاوجہ کھانا ، ادھر ادھر ہنا بھی ناجائز ہے۔حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان لوگوں کا کیا خیال ہے جو اپنی آنکھیں نماز میں آسمان کی طرف اٹھاتے ہیں۔حضور نے تاکید فرمائی کہ لوگ اس سے باز آئیں یا ان کی آنکھیں اُچک لی جائیں۔و میخاری کتاب الاذان باب رفع البصر الى السماء في الصلوة) حضرت عائشہ سے روایت ہے میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر اُدھر دیکھنے کے بارے میں پوچھا۔فرمایا۔ایسا کرنا اختلاس ہے، شیطان بندہ کی نماز اچک