آداب حیات — Page 62
حضرت ابو سر یہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔جب سلمان اور مومن بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا منہ دھوتا ہے تو پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ اس کی وہ تمام بدیاں ڈھل جاتی ہیں جن کا ارتکاب اس کی آنکھوں نے کیا ہو۔پھر جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھونا ہے تو پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ اس کی وہ تمام غلطیاں ڈھل جاتی ہیں جو اس کے دونوں ہاتھوں نے کی ہوں۔یہاں تک کہ وہ گنا ہوں سے پاک وصاف ہو کر نکلتا ہے پھر جب وہ اپنے پاؤں دھوتا ہے تو اس کی وہ تمام غلطیاں پانی یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ دھل جاتی ہیں جس کا اس کے پاؤں نے ارتکاب کیا ہو۔یہاں تک کہ وہ تمام گنا ہوں سے پاک وصاف ہو کر نکلتا ہے۔مسلم کتاب الطهارة باب خروج الخطايا مع ماء الوضوء) یا درکھنا چاہیے کہ ناز کا اصل مقام طہارت ہے جسے وضو کی حالت کہتے ہیں اس لئے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ جو شخص وضو کر کے نماز کے لئے بیٹھ جاتا ہے وہ نماز ہی کی حالت میں ہوتا ہے (کنز العمال عربی مطبوعہ مصر جلد ۷ ص ۲۹ حدیث نمبر (۱۸۹۶۴) ۲ نمازی کے لئے ضروری ہے کہ وہ پاک و صاف لباس میں نماز ادا کرے اور جس جگہ وہ نماز ادا کرنے کے لئے کھڑا ہو وہ بھی پاک وصاف ہو اور اس کا جسم بھی پاک ہو کیو نکہ خدا تعالیٰ جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند فرماتا ہے۔اسی طرح وہ پاکیزگی اختیار کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔اصطبل، نتیجه ، قبرستان ، راستوں کے درمیان حمام ، اونٹوں کے بندھنے اور بیٹھنے کی جگہ اور خانہ کعبہ کی چھت پر نماز پڑھنا منع ہے۔ترندی ابواب الصلوۃ باب ما جاء في كراهينه ما ليصل اليه وفيه ) قرآن مجید پارہ نمبر 1 رکوع میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔