آداب حیات — Page 56
۵۶ ایک دن ایک شخص آپ کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی کہ مجھ سے ایک بڑا گناہ سرزد ہو گیا ہے۔کیا اس سے توبہ کی کوئی صورت ہے ؟ آپ نے پوچھا۔کیا تمہاری ماں زندہ ہے ؟ بولا نہیں۔پھر پوچھا۔کیا تمہاری خالہ ہے ؟ جواب دیا۔ہاں۔آپؐ نے فرمایا۔تو اس سے نیکی کرو۔ترندی ابواب البر والصلة باب ماجاء فی تبد الخالة) حضرت برا دین عادی سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔کہ خالہ بمنزلہ والدہ کے ہے۔رتمندی ابواب البر والصلة باب ما جاء فی تبر الخالة) حضرت ام المومنین میمونہ نے ایک لونڈی آزاد کی۔تو آپ نے انہیں فرمایا کہ اگر تو اپنے ماموں کو دے دیتی تو تجھے بڑا اجر ملتا۔بخاری کتاب المحبته وفضلها والتحريص عليها ) -- والدین کے دوستوں اور ملنے جلنے والوں کے ساتھ بھی نیک سلوک رکھنا چاہیے۔حضور کا ارشاد ہے کہ بہترین نیکی یہ ہے کہ والد کے تعلقات کو زندہ رکھا جائے والد کے دوستوں کو چچا کے برابر اور والدہ کی سہیلیوں کو خالہ کے برای چکھنا چاہیے ابن دینار سے روایت ہے۔ایک اعرابی ابن عریضہ کو مکہ کی راہ میں ملا۔اسے حضرت عبداللہ بن عمر نے سلام کیا اور جس سواری پر سوار تھا۔اس پر اسے سوار کر لیا۔اور اپنے سر کی دستار سے دیدی۔ابن دینار کہتا ہے ہم نے ابن عمر سے کہا۔یہ اعرابی لوگ ہیں تھوڑی سی بخشش سے خوش ہو جاتے ہیں۔ابن مریم نے کہا۔اس کا حق ہے۔کیونکہ اس کا باپ میرے باپ ( عمر بن خطاب ) کا دوست تھا اور میں نے سول کریم صل اللہ علیہ وسلم سے منا کہ فرماتے تھے۔بڑی سعادت مندی یہ ہے کہ آدمی باپ کے دوستوں سے ملاپ اور نیک سلوک کرے۔اسلم كتاب البرد الصلة باب فضل صلة اصدقاء الاب والام نحوها