آداب حیات

by Other Authors

Page 43 of 287

آداب حیات — Page 43

سورة البقرہ آیت نمبر 19 میں فرماتا ہے۔قبل اَمْتُرِيدُونَ أَن تَسْتَلُوا رَسُولَكُمْ كَمَا سُلِلَ مُوسَى مِنْ کیا تم اپنے رسول سے اسی طرح سوال کرنا چاہتے ہو جس طرح اس سے پہلے سے ہو موسیٰ سے سوال کئے گئے۔تورات سے پتہ چلتی ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسی سے بات بات پر سوال کرتے تھے اور قرآن مجید سورۃ نسار آیت ۱۵۴ میں آتا ہے۔پس انہوں نے کہا (موسی سے) فَقَالُوا اَرانَا اللَّهَ جَهْرَةً سورة العناء : ۱۵۴ که تو خدا کو ہمارے آمنے سامنے لا کر دکھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی یہ حالت تھی کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس بات کا انتظار کرتے تھے کہ کوئی اعرابی آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی سوال پوچھے تا کہ ہم بھی سن لیں۔گویا انہیں اس قدر وقار اور ضبط حاصل تھا کہ خود کوئی سوال پوچھنے کی جرات نہیں کرتے تھے۔اور ادب کا کمال یہ ہے کہ رسول جو کچھ تم کوے دو لے لو اور وہ اختیار کرو اور میں سے منع کرے اس سے باز آجاؤ۔جیسا کہ سورۃ الحشر میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔وَمَا الكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا الحشر، (٨) اور جو کچھ تمہیں رسول دیتا ہے اسے لے لو۔اور جس چیز سے تمہیں منع کرے اس سے باز آجاؤ۔حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تم مجھے چھوڑے رکھو۔جب تک میں تمہیں چھوڑے رکھوں تم سے پہلے لوگ اسی سبب سے ہلاک ہوئے اپنے انبیاء پر سوال بہت کرتے اور اختلاف کثیر رکھتے ہیں جب تمہیں کسی چیز سے رد کوں تو رک جاؤ