آداب حیات — Page 42
۴۲ أكُمْ إِلى طَعَامِ غَير نظرِينَ إِنه وَلكِن إِذَا دُعِيمْ فَادْخُلُوا نا ذا طَعِمْتُمْ فَانتَشِرُوا وَلا مُسْتَانِسِينَ لِحَدِيثُ إِنَّ ذَلِكُمْ كَانَ يُؤْذِي النَّبِتَى فَيَسْتَحْيِ مِنْكُمُ واللَّهُ لَا يَسْتَحْيِ مِنَ الْحَقِّ ( الاحزاب :۵۴) اے مومنو !انی کے گھروں میں سوائے اس کے کہ تمہیں کھانے کے لئے بلایا جائے ہرگز داخل نہ ہوا کرو۔وہ بھی اس شرط سے کہ کھانا پکنے کے انتظار میں نہ بیٹھے رہا کرد اور نہ باتیں کرنے کے شوق میں بیٹھا کرو۔ہاں جب تم کو بلایا جائے تو پھر ضرور چلے جایا کر د پھر جب تم کھانا کھا چکو تو اپنے اپنے گھروں کو چلے جایا کرو۔یہ امر یعنی بے فائدہ بیٹھنا یا پہلے آجانا نبی کو تکلیف دیتا تھا۔مگر وہ تم سے حیا کرتا تھا مگر اللہ تعالی اچھی بات بیان کرنے سے باز نہیں رہتا۔رسول سے مشورہ کرنے سے پہلے نذرانہ پیش کرنا چاہیئے۔سورہ مجادلہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا مَا جَيْهُمُ الرَّسُولَ فَقَدِ مُوا بَيْنَ يَدَى نحو لَكُمْ صَدَقَةً ، ذلِكَ خَير لَكُمْ وَأَطْهَرُ فَإِن لَم جدُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُور رحيم ه (المجادله (۱۳) اے ایمان دارو ! جب تم رسول سے الگ مشورہ کرنا چاہو تو اپنے مشورہ سے پہلے کچھ نذرانہ دیا کرو۔یہ تمہارے لئے اچھا ہوگا اور دل کو پاک کرنے کا موجب ہوگا۔اور اگر تم کوئی بھی چیز نہ پاؤ۔پس یقینا اللہ بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔صدقہ سے مراد یہاں نذرانہ ہے۔رسول سے کثرت کے ساتھ سوال ایسے نہیں کرنے چاہئیں۔جو سنت اللہ اور قانون شریعت کے خلاف ہوں جن سوالات کا کوئی فائدہ نہ ہو اور جن سے وقت ضائع ہو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو کثرت سوال سے منع فرمایا تھا۔اور حضرت موسی کی قوم کی طرح کے سوال کرنے کی ممانعت فرمائی تھی۔اللہ تعالی قرآن مجید