آداب حیات — Page 41
۴۱ سے زیادہ جانتا ہے۔فیض رسالت جذب کرنے کے لئے مومنوں کو یہ ادب بھی سکھا یا گیا کہ نبی کی آداز سے اپنی آواز اونچی نہ کیا کرو۔اور نہ اس کے سامنے بلند آواز سے بات کرد۔لیکہ اپنی آواز کو دھیما رکھو۔اگر ایسا نہ کیا تو اعمال کے ضائع ہونے کا ڈر ہے۔سورۃ الحجرات آیت ۳ اور ہ میں اس کا ذکر کیا گیا ہے۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ الذِي وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالَكُمْ اِنَّ الَّذِيْنَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَئِكَ الَّذِينَ أسحَنَ اللهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوى لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَاجُرُ عَظِيم۔(الحجرات ۴۰۳) ترجمہ اور اسے مومنو انٹی کی آواز سے اپنی آواز اونچی نہ کیا کرو اور نہ بلند آواز سے اس کے سامنے اس طرح بولا کہ و بھی طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے سامنے اونچا بولتے ہو۔ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم جانتے بھی نہ ہو۔دہ لوگ جو اپنی آوازوں کو رسول کے سامنے دیا کہ رکھتے ہیں، وہی ہیں جن کے دلوں کا اللہ نے تقویٰ کے لئے پوری طرح جائزہ لے لیا ہے اور ان کے لئے مغفرت اور بڑا اجر مقدر ہے۔مومنوں کو چاہیے کہ وہ بغیر اجازت نبئی کے گھر نہ آئیں۔مومنوں کو چاہیے کہ وہ نبی کا وقت ضائع نہ کیا کریں۔اور بعد میں بیٹھ کر بھی باتیں نہ کیا کریں۔سورة الاحزاب رکوع میں ان آداب کا ذکر کیا گیا ہے۔ياَيُّهَا الَّذِينَ امنو الاحد خُلق بيوت النبي الا ان تُونَ