آداب حیات — Page 265
۲۷۵ ۲۔تعزیت کے لئے مرحوم کے رشتہ داروں کے پاس جانا چاہیے اور انہیں تستی دینی چاہئیے۔اور صبر کی تلقین کرنی چاہیئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی مثالیں دے کر انہیں دلاسہ دینا چاہیے۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نہایت رقیق القلب تھے۔اعزہ کی وفات پر آپ کو بہت صدمہ ہوتا تھا۔آپ ان کے گھروں میں تشریف لے جاتے تھے اور انہیں صبر کی تلقین فرماتے۔حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کی ایک بیٹی نے ایک آدمی کو بھیج کہ آپ کو بلا بھیجا اور کہلایا کہ بچہ حالت نزع میں ہے۔آپ نے اسی آدمی سے کہا۔واپس جاؤ اور کہدو کہ اللہ تعالیٰ کا ہے جو اس نے لیا اور اسی کا ہے جو اس نے دیا۔ہر چیز اس کے نزدیک ایک وقت مقرریک ہے۔اسے کہو کہ صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو۔مسلم کتاب الجنائز باب البكاء على الميت قرآنی ارشاد واصْبِرُ عَلى مَا أَصَابَكَ جو تجھے تکلیف پہنچے اس پر صبر کر ( سورة لقمان : ۱۸ کے مطابق تکلیف پر صبر سے کام لینا چاہیے۔کیونکہ خدا تعالے صابرین سے محبت رکھتا ہے اور ان کا دوست بن جاتا ہے۔(۳) میت کے پاس جب بیٹھے ہوں تو بجز خیر کے کلمات کے دوسری باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔حضرت اُم ساریہ سے روایت ہے جب نزع کے وقت ابو ساریہ کی آنکھ کھل گئی اس وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لائے۔آپ نے اس کی آنکھ بند کی اور فرمایا جب روح قبض کی جاتی ہے تو آنکھ اس کے تابع