آداب حیات

by Other Authors

Page 251 of 287

آداب حیات — Page 251

۲۵۱ ہوتا اور اس کی جزا خود بن جاتا ہے ، حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ تعالیٰ عزوجل قیامت کے دن فرمائے گا۔اسے ابن آدم ! میں بیجار موا تو نے میری عبادت نہ کی۔بندہ کہے گا اے پروردگار با تو رب العالمین ہے۔میں تیری عبادت کیونکر کر سکتا ہوں۔اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔کیا تجھے علم نہیں تھا کہ میرا فلاں بندہ بیمار تھا۔تونے اس کی عبادت نہ کی۔کیا تو جانتا نہیں کہ اگر تو اس کی عبادت کرتا تو تو تجھے وہاں پانا اسلم کتاب البر والصلة باب فضل عيادة المريض)۔ایک مسلمان کا حق ہے کہ وہ عیادت کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم - نے صحابہ کرام کو اس کا حکم دیا کہ وہ بیمار کی عیادت کریں۔بخاری کتاب المرضى باب وجوب عيادة المريض) حضور کریم بڑے رقیق القلب اور متاثر الطبع تھے۔دوسروں کی تکلیف کو دیکھ کہ بہت دکھی ہو جاتے اور عبادت میں بڑا تعہد رکھتے ایک دفعہ حضرت سعد بن عبادہ بیمار ہوئے۔آپ عبادت کو تشریف لے گئے۔اُن کو دیکھ کر آپ پر رقت طاری ہوگئی اور آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔آپ کو روتا دیکھ کر سب رو پڑے۔د بخاری کتاب الجنائز باب البكاء عند المريض) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا۔بیمار پرسی کا جنازوں کے پیچھے جانے کا پھینکنے والے کو جواب دینے کا اور کمزور کی مدد کا اور سلام کو افش کرنے کا اور قسم کھانے والے کو سچا کرنے کا۔د بخاری کتاب الاستیذان باب افشاء السلام ) عیادت کا بہت ثواب ہے۔حدیث میں آتا ہے کہ جب کوئی آدمی کسی مریضی