آداب حیات — Page 224
۲۲۴ البَرَكَةُ تَنْزِلُ وسَطَ الطَّعَامِ فَكُلُوا مِنْ حَافَتَيْهِ وَلَا تَاكُوا مِنْ وَسَطِه۔ا تم ندی کتاب الاطعمة باب ما جاء فی کر احقيته الاكل من وسط الطعام کہ کھانے کے درمیانی حصے میں برکت نازل ہوتی ہے۔اس لئے کنارے سے لینی ایک طرف سے کھا یا کروا در در میان سے کھانے سے اجتناب کرو۔حضرت عمرو بن ابی سرایہ جو بچپن سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں رہتے تھے اور کھانا کھاتے وقت سارے پیالے میں ان کا ہاتھ پھرتا تھا۔حضور نے ان کی یہ عادت دیکھ کر انہیں فرمایا۔يَا غُلَامُ سَم الله تعالى وَكُلْ بِيَمِينِكَ وَكُل مِمَّا بِلِيكَ سبخاری کتاب الاطعمته باب التسميته على الطعام والا كل باليمين و الاكل ما يلي ) کہ اے لڑکے۔کھانا کھاتے وقت بسم اللہ پڑھا کرو اور اپنے دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنے آگے سے کھاؤ۔حضرت عمرو بن ابی سلیمی نے حضور کی اس نصیحت کو ہمیشہ یاد رکھا اور اس کے مطابق کھانا کھایا۔- جب کھانا کھانے کے لئے بیٹھا جائے تو کھانے کی طرف متوجہ ہو کر بٹھنا چاہئے کھانے سے بے نیاز ہو کر بیٹھنا متکبرانہ طریقہ ہے حضور ہمیشہ کھانے کی طرف متوجہ ہو کر کھانا کھاتے تھے۔حضور فرماتے تھے۔خدا تعالیٰ نے مجھے بندہ کریم بنایا ہے اور جبار و سرکش دستگیر نہیں بنایا۔(ابو داؤد کتاب الاطعمية باب في الاكل من اعلى الصحفة ) کھانا ٹیک لگا کہ یا تکیہ لگاکر نہیں کھانا چاہیے حضور اکرم صلی الہ علی رستم