آداب حیات

by Other Authors

Page 186 of 287

آداب حیات — Page 186

JAY ہے۔ریاض الصالحین کتاب اللباس باب صفقه حلول الخميص) ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ حضور نے فرمایا۔تم اپنے بھائیوں کے پاس آنے والے ہو۔اپنے اونٹوں کے بجائے درست کر لو اور اپنے لباس سنتوا لو کہ تم لوگوں میں ایسے دکھائی دو۔جیسے بدن میں خال دکھائی دیتا ہے۔ر ابو داؤد کتاب اللباس باب ما جاء في اسبال الازار) کپڑے یعنی آزا را در دامن کو گھسیٹ کر نہیں چلنا چاہیے، کیونکہ کپڑے گھسیٹ کر چلنا تکبر اور غرور کی علامت ہے۔تکبر اور بڑائی صرف خدا تعالیٰ کو زیب دیتی ہے۔حدیث قدسی ہے ایک نو یاد ردائی کہ کبر میری چادر ہے۔ر ابن ماجه کتاب الزهد باب برأة من الكبر والتواضع) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جوشخص تکبر و غرور سے کپڑا گھیٹ کر چلے۔قیامت کے دن خدا تعالیٰ اس کی طرف نظر تک نہ کرے گا۔ابوبکر نے کہا یارسول اللہ ! میرا تہبند ڈھیلا ہو کر ٹک جاتا ہے، مگر یہ کہ اس کا خیال رکھوں حضور نے فرمایا۔آپ ان میں سے نہیں جو یہ کام تکبر سے کرتے ہیں۔ابخاری کتاب المناقب باب مناقب ابو بکر رض) عرب میں یہ رواج تھا کہ امراد اپنی شان نمایاں کرنے کے لئے تہمبند کو اتنا لمبا کھتے تھے کہ وہ زمین پرگھسٹتی چلی جاتی تھی حضور اکرم نے اس حرکت کو سخت ناپسند بلکہ حرام قرار دیا ہے۔آپ نے فرمایا۔کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر نظر نہیں ڈالے گا جو اپنی پوشاک گھسیٹ کر چلتے ہیں۔ر ترندی ابواب اللباس باب ما جاء في كراهيته جبر الازار) آپ نے بتایا کہ ایک شخص غرور سے اپنی ازار لٹکائے چلا جاتا تھا وہ زمین میں جنس گیا۔قیامت تک دھنستا چلا جائے گا۔ا بخاری کتاب اللباس باب من حب توبة عن الجهلاء)