آداب حیات

by Other Authors

Page 132 of 287

آداب حیات — Page 132

۱۳۲ گفتگو کے آداب جسمانی اعضاء میں سے زبان وہ جزو اعظم ہے جس کی حفاظت کو دین کی جڑ قرار دیا گیا ہے۔زبان وہ آلہ ہے جو انسان کی دلی حالت اور اس کے خیالات کے اظہار کا ذریعہ ہے۔یہ وہ عضو ہے جس کے ذریعہ سے انسان جنت و دوزخ کی راہ استوار کرتا ہے۔یہ وہ مفتاح ہے جس کے ذریعہ سے انسان نجات کا دروازہ اپنے اوپر کھوتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہر بات کی خدا تعالیٰ کے ہاں باز پرس ہوگی۔اس لئے ہمیشہ پاکیزہ اور نیک کلمات بولنے چاہئیں۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔مَا يَلْفِظُ مِنْ قَولِ إِلا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيد (سورة ق : 19) اور انسان کوئی بات نہیں کرے گا کہ اس کے پاس اس کا نگران با محافظ نہ ہو۔حضرت اقدس محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث بہت زیادہ توجہ کے لائق ہے۔آپ فرماتے ہیں۔صبح ہوتی ہے تو انسان کے سب اعضاء اس کی (زبان کی) گوشمالی کرتے ہیں کہ دیکھ ہمارے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈر ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔تو سیدھی ہوئی تو ہم بھی سیدھے ہیں اور تو ٹیڑھی ہوئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہیں۔رياض الصالحين كتاب الامور المنتهى عنها باب تحريم الغيبة والامر يحفظ اللسان)