آداب حیات

by Other Authors

Page 127 of 287

آداب حیات — Page 127

۱۲۷ حضرت بستر سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے فرمایا کہ جب تم میں سے کوئی عشاء کی نماز کے لئے مسجد میں آئے تو خوشبو لگا کر نہ آئے۔(موطا كتاب الصلوة باب ما جاني خروج النساء الى المساجد) -4- آنے جانے والے اگر سہر راہ بیٹھنے والوں کو سلام کریں تو انہیں لازم ہے کہ وہ سلام کا جواب ضرور دیں۔قرآن کریم میں یہ حکم دیا گیا ہے۔گیا وَإِذَا حَيْتُم بِتَحِيَّةٍ نَحِبُّوْا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّ وهَا إِنَّ اللهَ كَانَ عَلَى كُلِّ شَى حَسيباً (سورة النساء : ٨٤) اور جب تم کوئی دُعا دیئے جاؤ تو تم بھی دعا دو بہتر اس سے یا لوٹا دو اسی کو بے شک اللہ ہر امر کا محاسبہ کرنے والا ہے۔۔راستے میں ایک دوسے کو سلام کرنا چاہیے۔خواہ آپس میں پہچان بھی نہ ہو کیونکہ سلام ایک نیک دعا ہے اور اللہ تعالٰی کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ کلمات ہیں۔صحابہ کرام نیکیاں کمانے کے اتنے مشتاقی تھے کہ وہ بازاروں میں نکل جاتے اور ہر ملنے والے، آنے جانے والوں کو سلام کرتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث مباركة افُشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ پر عمل کرتے۔حضرت طفیل بن ابی کعبہ کہتے ہیں۔میں عید اللہ بن عمر کے پاس صبح کو آتا اور ان کے ساتھ علی الصباح بازار میں جاتا۔جب ہم بازار میں جاتے تو عبد اللہ کسی مشتقاط کے پاس سے گزرتے یا بڑے دوکاندار کے پاس سے یا کسی مسکین یا کسی آدمی کے پاکس سے تو اسے السلام علیکم کہتے۔ایک روز جب میں عبداللہ بن عمر کے پاس آیا تو انہوں نے مجھے بازار لے جانا چاہا۔میں نے کہا۔بازار میں جا کر کیا کرو گے ؟ نہ کسی سودے پر ٹھہرتے ہو۔نہ کسی اسباب کو پوچھتے ہو۔نہ سودا چکاتے ہو۔نہ بازار کی مجلس میں بیٹھتے ہو یہیں بیٹھے صاحب ! باہم باتیں کرتے ہیں۔ابن عمر فرمانے لگے۔اسے بڑے پیٹ والے۔ہم