آداب حیات — Page 112
ہو جاؤ۔کہ یہ کام اس تیسرے کو رنج میں ڈالتا ہے۔ر مسلم کتاب السلام باب تحریم مناجاة الأثنين دون الثالث) - مجالس میں بیٹھ کر ناشائستہ کلام نہیں کرنا چاہیئے اور نہ ہی بے ہودہ گوئی کرنی چاہیئے۔لیکن اگر کوئی شخص بے ہودہ گوئی کر بیٹھے تو اسے مجلس میں سے اُٹھنے سے پہلے یہ دعا ضرور پڑھنی چاہیئے۔سُبحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ استغْفِرُكَ واتوب اليك۔ر ترمذی ابواب الدعوات باب ما يقول اذا قام من مجلسه) اے اللہ ! تو پاک ہے اپنی سچی تعریف کے ساتھ میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔میں تجھ سے راپنے گناہوں کی بخشش مانگتا ہوں اور تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں۔حضور اکرم صل اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھ کر بے ہودہ گوئی کر بیٹھے اور اٹھنے سے پہلے یہ دعا پڑھ لے تو جو کچھ ملس میں اس سے سرزد ہوا۔وہ بخشا جاتا ہے۔ترندی ابواب الدعوات باب ما يقول اذا قام من مجلسه) مجلس میں جمائیاں نہیں لینی چاہئیں۔اگر جمائی آجائے تو جہاں تک ہو سکے اُسے روکا جائے۔اللہ تعالیٰ جمائی کو مکروہ اور ناپسندیدہ چیز قرار دیتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ دستم فرماتے تھے۔بھائی شیطان سے ہے جب تم میں سے کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہونگے۔اس کو روکے۔کیونکہ جب تم میں سے کوئی جمائی لیتا ہے تو شیطان اس سے بنتا ہے۔جائی آئے تو لا حول ولا قوة الا باللہ العلی العظیم پڑھنا چاہئے۔بخاری دلم مجلس میں اگر چھینک آئے تو جہاں تک ہو سکے آواز کو دبایا جائے۔حضرت الو ریہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی کہ جب آپ کو جھینگ