آداب حیات — Page 74
۷۴ اور جب وہ نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں تو سستی سے کھڑے ہوتے ہیں۔۱۵ نمافہ میں اگر کسی سے ایسی غلطی سرزد ہو جائے جس سے نماز میں شدید نقص پڑ جائے مثلاً سھوا فرض کی ترتیب بدل جائے یا رکھتوں کی تعداد میں شک پڑ جائے یا کوئی واجب جیسے درمیانی قعدہ رہ جائے، تو اس غلطی کے تدارک کے لئے دو زائد سجدے کرنے ضروری ہوتے ہیں۔اور یہ سجد سے نماز کے آخری قعدہ میں تشہد درود شریف اور دعاؤں کے بعد کئے جائیں جب یہ آخری دعا ختم ہو جائے تو تکبیر کہہ کر دو سجدے کئے جائیں۔اور ان میں تسبیحات پڑھی جائیں۔اس کے بعد بیٹھ کر سلام پھیرا جائے۔ا نماز مرتبه مولانا ملک سیف الرحمن صاحب فاضل ص ۴۴۲۳) حدیث میں آتا ہے۔عبداللہ بن مالک مجیبه ر جو قبیلہ آڑوشنواہ سے بنی عید منان کے حلیف اور بنی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے تھے) کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی تو بھولے سے پہلی دو رکھتوں کے (بعد) کھڑے ہو گئے اور بیٹھے نہیں۔چنانچہ لوگ بھی آپ کے ساتھ کھڑے ہو گئے جب آپ نماز تمام کر چکے اور لوگ آپ کے سلام پھیرنے کے منتظر تھے تو آپ نے بیٹھے ہی تکبیر کہی اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے پھر اس کے بعد سلام پھیرا۔تجرید بخاری حصہ اول ص ۱۹) امام اگر کوئی ایسی غلطی کرے جس سے سجدہ سہو لازم آتا ہو تو اس کے ساتھ مقتدیوں کو بھی سجدہ سہو بجا لانا ہو گا۔لیکن اگر مقندی سے کوئی غلطی ہو جائے تو پھر امام کی اتباع کی وجہ سے اس کے لئے سجدہ سہو کرنا ضروری نہیں ہو گا۔14۔مسنون دعاؤں کے علاوہ نماز میں اپنی زبان میں بھی دعائیں مانگنی چاہئیں۔رکوع اور سجود میں قرآنی دعائیں اور آیات نہیں پڑھنی چاہئیں۔