آداب حیات — Page 73
قَدْ اَفْلَحَ المُؤمِنونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ (سورة المؤمنون (۳۰۲) یقیناً وہ مومن کامیاب ہو گئے جو اپنی نمازوں میں عاجزانہ رویہ اختیار کرتے ہیں نماز خشوع و خضوع کرنے والوں کو کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے۔نماز کو چٹی سمجھ کر نہیں پڑھنا چاہئے بلکہ اس یقین اور ایمان کے ساتھ پڑھنا چاہئیے کہ ہم اپنے محبوب خدا کی زیارت کر رہے ہیں۔انحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز اپنے رب کی زیارت ہے۔اور زیارت اہلی ایک انعام ہے۔اور کوئی عقلمند انسان اپنے محبوب کی زیارت کو چھٹی نہیں سمجھے گا۔و تفسیر کبیر جلد چهارم ص۳۷۲ نیا ایڈیشن) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کی شان یہ بتائی ہے صلی سلم بتائی كَانَكَ تَرَاهُ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ امسلم کتاب الایمان باب تعریف الاسلام و الایمان) کہ جب تو نماز کے لئے کھڑا ہو تو تو سمجھے کہ تو تو خدا تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔اور اگر یہ حالت نہ ہو کہ تو اُسے نہیں دیکھ رہا تو تو یہ یقین رکھ کر نماز پڑھ کہ وہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے۔گویا نماز رودیت الہی کا نام ہے۔اور خدا تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑا انعام ہے۔۱۴ نماز کو ہمیشہ چستی اور ہوشیاری کے ساتھ ادا کیا جائے کیونکہ تماز کو سستی سے ا کر نا یا اس کی ادائیگی میں کو تاہی اور غفلت سے کام لینا منافقت کی علامت ہے اللہ تعالیٰ سورۃ النساء رکوع ۲۱ میں فرماتا ہے۔وإذا قامُوا إِلَى الصَّلوةِ قَامُوا كَسَالَى (سورة النساء : ۱۴۳)