آداب حیات

by Other Authors

Page 71 of 287

آداب حیات — Page 71

61 حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور سے دریافت کیا کہ کیا وتر ادا کرنے سے قبل آپ سوتے ہیں جضور نے فرمایا۔اے عائشہ ! میری آنکھیں تو سو جاتی ہیں لیکن دل نہیں ہوتا۔البخاری کتاب الصوم باب فضل من قام رمضان) جہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نمازوں کو ستوار کر پڑھا کہ تنے تھے وہاں دوستوں کو بھی سنوار کر پڑھنے اور عمدگی سے ادا کرنے کی تلقین فرماتے تھے۔حدیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے نماز پڑھی۔پھر وہ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کیا۔آپ نے اس کے سوال کا جواب دیا اور فرمایا۔جاؤ دوبارہ نماز پڑھو۔کیونکہ تمہاری نماز نہیں ہوئی۔تین دفعہ ایسا ہوا کہ آپ نے اُسے دوبارہ نماز پڑھنے کے لئے کہا۔تب اس نے آپ سے کہا۔آپ ہی مجھے نماز پڑھنے کا مجھے طریق بتا دیں۔اس پر آپ نے فرمایا۔جب تم نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہو جاؤ تو تکبیر کہو پھر حسب توفیق قرآن پڑھو۔پھر پورے اطمینان کے ساتھ رکوع کرو۔پھر سیدھے کھڑے ہو جاؤ، پھر اسے اطمینان کے ساتھ سجدہ کر دی پھر سجدہ سے اُٹھ کر پوری طرح بیٹھو۔اس کے بعد دوسرا سیدہ کرد اس طرح ساری نماز ٹھہر ٹھہر کو سنوار کر پڑھو۔استخاری کتاب الأذان باب أمر النبي الذي لا يتم ركوعه بالاعادة) ایسی نماز جس میں دل کہیں اور ہوا اور خیال کسی اور کی طرف ہو وہ قبول نہیں ہوتی بلکہ لعنت بن کر اس شخص پر پڑتی ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔قول لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ۔ر سورة الماعون : ۶۵) یعنی لعنت ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نمازوں میں فاضل ہیں۔تماز اگر سنوار سنوار کر اما کی جائے تو نماز نمازی کو دعا دیتی ہے کہ خدا تعالیٰ تجھے