آداب حیات — Page 60
یقیناً نماز بے حیائیوں اور ناپسندیدہ کاموں سے روکتی ہے۔حدیث شریف میں آتا ہے۔الصلوةُ مِحْرَاحُ المُؤْمِنِ که نماز مومن کی معراج ہے۔یہ وہ روحانی ترقی کا زینہ ہے جس پر چڑھ کر انسان خدا تعالیٰ کی ملاقات کا شرف حاصل کر لیتا ہے۔نماز مومن کی روح کی غذا ہے اور جنت کی کلید ہے۔نماز کا پڑھنا ہر عاقل اور بالغ مسلمان پر فرض ہے۔اسلامی نماز ایک ایسی جامع عبادت ہے جس میں تمام اقوام کے طریق عبادت کو جمع کر دیا گیا ہے۔اور حقیقت یہ ہے کہ اسلامی نماز عقیدت و محبت اور ادب و احترام کے لحاظ سے بھی انسانی جذبات کی بہترین عکاس ہے۔ذیل میں قرآن مجیبہ سنت نبویہ اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں دیئے گئے نماز کے آداب درج کئے جاتے ہیں تاکہ ہم ان پر عمل پیرا ہو کر اپنے محسن خدا کی زیارت کر سکیں۔نماز جیسی عظیم الشان عبادت کو بیجا لانے کے لئے ضروری امر یہ ہے کہ پہلے اچھی طرح وضو کیا جائے کیونکہ وضو عینی طہارت نماز کی کنجی ہے۔اور وضو سے پہلے حاجات ضروریہ سے بھی فارغ ہو لینا چاہیئے۔I حدیث میں آتا ہے لا صَلوةَ۔۔۔۔وَهُوَيدَافِعُهُ الْأَحْبَاتَانِ اسلم كتاب المساجد ومواضع الصلوة باب كراهيته الصلوة بحضرة الطعام المرادا كله) یعنی اس حالت میں نماز نہیں ہوتی جب دو سخت نا پاک چیزیں (یعنی پیشاب اور پاخانہ اُسے روک رہی ہوں۔وضو کرنے سے پہلے بسم الله الرحمن الرحیم پڑھنی چاہئے کیونکہ ہم الہ وضو کی کنجی ہے۔وضو کرتے وقت کلمہ شہادت پڑھتے رہنا چاہیے (مسلم دنجاری) اور بعد میں یہ دُعا پڑھنی چاہیئے۔اللهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ التَّوَّابِينَ وَاجْعَلَنِي مِنَ الْمُتَطَهِّرِينَ (کنز العمال جلد نمبر 9 کتاب الطهارة باب اذكار الوضوع ) :