آداب حیات — Page 53
۵۳ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد عروض سے کہا کہ چلو - ممر امین کی زیارت کو۔جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کبھی اسکے ہاں جایا کرتے تھے۔جب ہم اس کے ہاں پہنچے تو وہ روپڑی۔پوچھا۔کیوں روتی ہو ؟ کیا تم نہیں جانتیں کہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اس سے بہتر ہے۔اس نے کہا۔میں اس لئے نہیں روتی کہ میں یہ بات جانتی نہیں۔بلکہ اس لئے روتی ہوں کہ وحی آسمان سے آنا منقطع ہو گئی۔یہ سُن کر ابو بکر و عمریض کو بھی رونا آگیا۔اور دونوں رونے لگے۔ر مسلم کتاب فضائل الصحابة باب فضائل أم ايمن ۰۵۱ والدین کے ساتھ ہمیشہ مودبانہ گفتگو کرنی چاہیے۔اُن کے ساتھ سخت کلامی نہیں کرنی چاہیے نہ اپنے منہ سے اور نہ ہی اپنے عمل سے انہیں دُکھ دینا چاہیے۔اللہ تعالے سورۃ بنی اسرائیل میں فرماتا ہے۔إمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الكِبَرَ اَحَدُهُمَا أَوْ كِلَاهُما فَلَا تَقُلْ ان ولا تنهَى هُمَا وَحَل لَهُمَا قَوْلًا كَريما ( سورة بنی اسرائیل (۲۴) ترجمہ در اگر ان میں سے کسی ایک پر یا ان دونوں پر جبکہ وہ تیرے پاس ہوں ٹیڑھا یا آجائے تو تو انہیں دان کی کسی بات پہ ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے) اُف تک نہ کہہ۔اور نہ انہیں جھڑک اور اُن سے شریفانہ طور پر نرمی سے بات کرہ۔قرآن مجید نے ماں باپ کے ساتھ نیکی اور ان کے ساتھ ادب و احترام کے ساتھ پیش آنے کا حکم دیا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ماں باپ کے احسان کی قدر کرنے سے انسان خدا تعانے کے احسان کی قدر کی حقیقت کو پالیتا ہے۔اسلام نے ماں باپ کے ساتھ نرم اور پسندیدہ بات کرنے اور ان کی خدمت کے متعلق خاص ہدایت دی ہے۔