آداب حیات — Page 52
۵۲ (س) والد کی دُعا بیٹے پہ۔ر ترمذی ابواب الدعوات باب ماجاء فی دعوت المسافر) هم والدین بہت عزت و احترام کے مستحق ہوتے ہیں۔ان کے سامنے رحمت آمیز بجز اختیار کرنا چاہیے۔سورۃ بنی اسرائیل میں یہ ہدایت دی گئی ہے۔واخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِ مِنَ الرَّحْمَةِ (من اسرائيل :(۲۵) کہ ان کے سامنے شفقت اور رحمت کے بازو مجھکا دے۔حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص اپنے والدین پر شفقت کی نظر ڈان ہے اس کے لئے ایک مقبول حج لکھا جاتا ہے۔دکنز العمال جلد ۱۶ حدیث نمبر ۴۵۴۹۶) حضور اکرم صلی الہ عیہ وسلم کی دالر ماجدہ آپ کے بچپن میں ہی وفات پاگئی تھیں۔آپ کی کنیز ام ایمیں نے آپ کی خدمت کی۔آپ جب انہیں دیکھتے تو امی کہہ کر پکارتے اور فرماتے یہ میرے گھرانے کا بقیہ ہیں۔آپؐ فرمایا کرتے تھے کہ میری والدہ کے بعد اُم ایم منہ ہی میری والدہ ہیں۔ایک بار حضرت اُم ایمن ص نے حضورہ کو دیکھا کہ آپ پانی پی رہے ہیں۔انہوں نے حضور سے کہا کہ مجھے بھی پانی پلائیے۔حضرت عائشہ بولیں۔کیا تم حضور کو ایسا کہتی ہو؟ اُم ایمین نے کہا۔تم نے مجھ سے بڑھ کر حضور کی خدمت نہیں کی۔حضور نے فرمایا۔یہ سچ کہتی ہیں۔آپ پانی لائے اور اہم امیں یمن کو پلایا۔البداية والنهاية جلد پنجم ص ۵۵ اردو مطبوعه نفیس اکیڈمی کراچی) صره حضور حضرت ام المین سے ملنے ان کے گھر تشریف لے جاتے تھے۔جیسا کہ حدیث میں آتا ہے حضرت انس سے روایت ہے کہ حضرت ابویی