آداب حیات

by Other Authors

Page 45 of 287

آداب حیات — Page 45

یہود کا مقصد مسلمانوں کے دلوں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام اور ادب کو کم کرنا تھا۔اس لئے وہ آپ کے متعلق ایسے الفاظ استعمال کرتے تھے جن میں جنک اور شرارت مد نظر ہوتی تھی۔اور گستاخی پائی جاتی تھی۔وہ بیچ دے کر اور لفظ کو بگاڑ بگاڑ کر راعنا کا لفظ استعمال کرتے تھے۔گورا عنا کے معنی لغت کے لحاظ سے یہ ہیں کہ تو ہمارا خیال رکھے ہم تیرا خیال رکھیں گے لیکن وہ اپنی زبان کو پہنچے دے کر راعینا کا لفظ بولتے جس کے معنی ہیں اے ہمارے چروا ہے۔اسرعنا لفظ بولتے جس کے معنی بے وقوف ، خود پسند انسان کے ہیں۔گویادہ ہنسی اور مذاق کے طور پر یہ لفظ استعمال کرتے تھے چونکہ اس لفظ کے مادہ میں بے ادبی کا مفہوم پایا جاتا تھا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس لفظ کو استعمال کرنے سے منع کر دیا اور حکم دیا کہ انظرنا کے الفاظ بیولا کر وحیں میں بے ادبی کا کوئی احتمال نہیں اور جو رسول کی عزت و شان کے مطابق ہیں۔اور ایک مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ رسول کے ساتھ اپنی عقیدت کا اظہار ایسے الفاظ اور طریقوں سے کرے جن میں سراسر ادب و احترام پایا جاتا ہو۔