آداب حیات

by Other Authors

Page 37 of 287

آداب حیات — Page 37

ایسے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں کہ آپ کو واسطہ بنائے بغیر آپ کا وسیلہ حاصل کئے بغیر کوئی شخص خدا کا قرب اور فضل اور اس کی محبت حاصل نہیں کر سکتا۔اللہ تعالیٰ اپنے اس برگزیدہ رسول کو اسوہ حسنہ قرار دیتے ہوئے فرماتا ہے۔لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرُوا اللهَ وَاليَومَ الآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيران ( سورة الاحزاب : ۲۲ ) تمہارے لئے (یعنی ان لوگوں کے لئے جو اللہ اور اخروی دن سے ملنے کی امید رکھتے ہیں اور اللہ کا بہت ذکر کرتے ہیں۔اللہ کے رسول میں ایک اعلیٰ نمونہ ہے رجس کی انہیں پیروی کرنی چاہئیے)۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم زندہ نبی ہیں اور فیضان حیات کے مالک ہیں۔آپ اتی سلسلہ انبیاء میں کامل اور عظیم المرتبت بنی ہیں۔جن کی کامل متابعت میں قرب خداوندی حاصل کیا جاسکتا ہے۔آپ تمام بنی نوع انسان میں اپنی تمام صفات حمیدہ اور کمالات عظیمہ کے لحاظ سے یکتا اور بے مثال وجود ہیں کہ آپ کی پیروی ذاتاً وصفاتاً قولاً و عقلاً ، فعلاً وحالاً حياً وكمالاً کی جائے۔پس خدا تعالی کے بعد آپ سے ایسی شدید محبت کی جائے جو دوسری تمام محنتوں پر غالب آجائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے که : اگر تمہارے باپ دادا تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے دوسرے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارتیں جن کے نقصان سے تم ڈرتے ہو اور مکان جن کو تم پسند کرتے ہو تم کو اللہ اور اس کے رسول اور اس کے راستہ میں جہاد کرنے کی نسبت سے زیادہ پیارے ہیں کہ تم انتظار کہ دیہاں تک کہ اللہ تعالے اپنے فیصلہ کو ظاہر کر دے اور اللہ اطاعت سے نکلنے والی قوم کو کبھی کامیابی کا راستہ نہیں دکھاتا۔( سورة التوبه (۲۴)