آداب حیات

by Other Authors

Page 31 of 287

آداب حیات — Page 31

۳۱ انبیاء کرام علیہ السلام کے اکرام کے آداب اند تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو ملامت دیگر اہی سے بچانے کے لئے اور انہیں انسانی اقدار سے روشناس کرانے کے لئے وقتاً فوقتاً اپنے بنی اور رسول مجھے جیسا کہ ان سورة النحل رکوع ہ میں فرماتا ہے۔ولقد بعثن في كُلِّ أُمَّةٍ تَرَّ سُوة (الحل : ٣٤) اور یقینا ہم نے ہر ایک قوم میں رسول بھیجے انسان اس کائنات کا آخری نفط ہے۔اللہ تعالیٰ جو رحیم دردود ہے۔اس نے اُس کی روحانی ترقی کے لئے اپنے فرستادے بھیجے تا اُن کے ذریعہ سے انسانیت آزادی کا سانس لینے لگے اور نا انسان اپنے خالق ومالک سے ایک پختہ اور دائمی تعلق قائم کرے۔اور حقیقت یہ ہے کہ نبی ایک عظیم الشان لیلۃ القدر ہوتا ہے جب تک وہ دنیا میں ظاہر نہ ہو۔انسان کا قدم ترقی کی طرف نہیں بڑھ سکتا کیونکہ بنی کے ذریعہ قوم کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا جاتا ہے اور بنی نوع انسان میں نسلی امتیازات کو ختم کر کے سادات قائم کی جاتی ہے۔اور انسانی حقوق کی حفاظت کی جاتی ہے۔پس جہاں انبیاء علیهم السلام آسمان روحانی کی زمینیت کے محافظ ہوتے ہیں وہاں وہ اس قرآنی دعوی كتب الله لاَ عَلَينَ أَنَا رَهُ سُلِي (المجادله (۲۲) کہ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کر چھوڑا ہے کہ میں اور میکے رسونی غالب رہیں گے کے