آداب حیات

by Other Authors

Page 276 of 287

آداب حیات — Page 276

پناہ مانگتا ہوں اور میرے منظر سے اور گھر بار کی طرف گبری واپسی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔۔دوران سفر بھی دعائیں مانگتا رہنا چاہیے۔کیونکہ سفر میں کی گئی دعائیں بولیت کا رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک ذکر الہی سے تو رہتی اور سفر میں آپ کثرت سے دعائیں مانگا کرتے تھے۔حضرت عبد اللہ بن برجس سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر کرتے تو سفر کی شدت اور پھرنے کے رنج اور زیادتی کے بعد نقصان احق ہونے اور مظلوم کی دعا اور اہل و مال میں بری نظر سے تعوذ کیا کرتے تھے۔(مسلم کتاب الحج استحباب الذکر ازار کعب دابته) حضرت ابو ہریرہ سے مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تین دعائیں بہایہ قبولیت جگہ پاتی ہیں۔مظلوم کی دعا۔مسافر کی دعا۔اور باپ کی بکہ دھا بیٹے کے خلاف۔(باپ کی دعا بیٹے کے حق میں) ترمذی ابواب الدعوات باب ما حباء في دعوة المسافر) -0 سفر میں اگر کوئی بلند جگہ آئے یا کسی چوٹی پہ چڑھیں تو تجیر یعنی اللہ اکبر " کہنی چاہیے۔اور جب نیچے اتریں تو تسبیح کرنی چاہیئے۔حضرت جابر سے روایت ہے کہ جب ہم بلند جگہ پر چڑھتے تھے تو تبجیر کہتے اور جب نیچے اُترتے تو تسبیح کہتے۔بخاری کتاب الجهاد باب التسبيح اذا احبط دادیا) حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے۔ایک شخص نے کہا۔یا رسول اللہ ! ہمیں سفر کا ارادہ رکھتا ہوں۔آپ مجھے وصیت فرمائیے۔فرمایا۔تجھے لازم ہے کہ