آداب حیات

by Other Authors

Page 269 of 287

آداب حیات — Page 269

۲۶۹ کرتا ہے یا رحم۔حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بیٹے ابراہیم امسلم کتاب الجنائز باب البكاء على المبيت) کے پاس اس کی نزع کے وقت تشریف لائے۔آپؐ کے آنسو نکل آئے۔عبدالرحمن بن عوف نے کہا رسول اللہ۔آپؐ اور یہ حالت ؟ فرمایا۔یہ تو رحمت ہے۔پھر اس کے بعد دوسری بار آنسو نکلے تو فرمایا۔ال العين تدمعُ وَالقَلْبُ يَحْزُنُ وَلَا تَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى ربُّنَا وَ إِنَّا بِعاقِكَ يَا إِبْرَاهِيمَ لَبَحْرُ وَنُونَ دستیخاری کتاب الجنائز باب قول البنى انا بك لمخرولون) آنکے آنسو بہاتی ہے۔اور دل غمگین ہے اور ہم وہی بات کہتے ہیں جس سے ہمارا رب رامنی ہو۔اور اسے ابراہیم۔ہم تمہاری جدائی سے غمگین ہیں۔حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کا لڑکا حالت نزع میں آپ کے پاس لایا گیا۔اسے دیکھ کر رسول کریم ملالہ یک کم کی آنکھوں میں پانی بھر آیا۔سعد نے کہا یا رسول اللہ ! یہ کیا ؟ آپ نے فرمایا۔یہ اللہ کی رحمت ہے جو اس نے اپنے بندوں کے دلوں میں پیدا کی ہے۔اور اللہ تعالے نرم دل رحم کرنے والے بندوں پر رحمت کرتا ہے۔امسلم کتاب الجنائز باب البكاء على المبت) ہے۔اسلام ہمدردی کا مذہب ہے۔جب کسی بھائی یا ہمسائے کے گھر ماتم ہو جائے تو برادرانہ ہمدردی کی راہ سے کھانا تیار کر کے اس کے گھر بھجوایا جائے۔حدیث میں آتا ہے۔حضرت عائشہ بلینسر جو ایک قسم کا کھانا ہے اور جسے حضور بھی بہت پسند فرماتے تھے ، تیار کر کے اپنے رشتہ داروں کے ہاں بھجوایا کرتیں تھیں۔(بخاری کتاب الطب باب التلبينة)